’باڑ،بارودی سرنگیں لگائیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر شدت پسندوں کی آمد و رفت روکنے کے لیے پاکستان سرحد کے اپنی جانب باڑ لگائے گا اور بارودی سرنگیں بچھائے گا۔ افغانستان کے دورے پر روانگی سے قبل کراچی میں بدھ کو گورنر ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ان مقامات پر کئے جائیں گے جہاں آمدورفت زیادہ ہے۔ وزیر اعظم شوکت عزیز جمعرات سے دو روزہ دورے پر افغانستان پہنچ رہے ہیں، یہ دعوت انہیں افغانستان کے صدر حامد کرزئی نےتاشقند میں دی تھی۔ اسلام آباد میں بدھ کو ایک پریس بریفنگ میں دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بتایا ہے کہ اس ملاقات میں معاشی، سفارتی اور سیاسی امور زیر بحث لائے جائیں گے اور لویا جرگہ پر بھی مذاکرات ہونگے۔ ترجمان نے بتایا پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کی ذمہ داری پاک فوج کو سونپی گئی ہے، جو ابتدائی طور پر ان مقامات کی نشاندہی کرے گی جہاں اس کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چوبیس سو کلومیٹر طویل سرحد پر نہ تو باڑ لگائی جاسکتی ہے نہ ہی بارودی سرنگیں بچھائی جاسکتی ہیں اس لئےکچھ مقامات پر باڑ لگائی جائے گی اور کچھ مقامات پر بارودی سرنگیں بچھائی جائیں گی۔ ترجمان نے بتایا کہ پاک افغان سرحد پر سات سو چیک پوسٹ قائم رہیں گی تاکہ آمدرفت کی نگرانی کی جا سکے۔ تقریباً ڈھائی ہزار کلومیٹر طویل پاک افغان سرحد جو ڈیورینڈ لائن کہلاتی ہے سنہ اٹھارہ سو تیرانوے میں بھارت کے انگریز حکمرانوں اور اس وقت کی افغان حکومت کے مابین ایک سمجھوتے کے تحت وجود میں آئی تھی۔ تاہم قیام پاکستان کے بعد افغان حکومت نے اس مستقل سرحد تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں بارودی سرنگوں کی تجویز پر تنقید28 December, 2006 | پاکستان پاکستانی منصوبے پر کرزئی کی تنقید 28 December, 2006 | آس پاس باڑ، بارودی سرنگ، ملا جلا ردِعمل27 December, 2006 | پاکستان سرنگوں، کلسٹر بموں کیلیےنیا قانون12 November, 2006 | آس پاس وزیرستان میں طالبان کا ’انصاف‘24 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||