سرنگوں، کلسٹر بموں کیلیےنیا قانون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نیا بین الاقوامی قانون لاگو کیا جا رہا ہے جس کے مطابق رکن ممالک کو بارودی سرنگوں اور بغیر پھٹے کلسٹر بموں کو جلد تلف کرنا ہو گا یا پھر ایسے اسلحہ کو ناکارہ بنانے والے ماہرین کے ذریعے یہ کام کروانا ہو گا۔ اس قانون کا اطلاق اتوار سے ہو گا۔ یہ آرڈیننس خاص طور پر ان ممالک پر لاگو ہوگا جن میں جنگ کے بعد ابھی تک سرنگیں اور کلسٹر بم موجود ہیں۔ اسی موضوع پر جنیوا کی ایک کانفرنس میں بحث ہوئی ہے جس میں ممبر ممالک پر کلسٹر بم پر پابندی لگانے کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ ایسے بموں کو صرف تلف کرنا ہی کافی نہیں بلکہ ان پر پابندی لگا دی جائے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں کلسٹر بموں کے اربوں ذخیرے موجود ہیں اور ان میں سے ایک ارب تو صرف امریکہ میں ہیں۔ امریکہ، چین اور روس جیسے ممالک اس بحث سے اجتناب کر رہے ہیں۔ ویتنام سے لے کر کوسوو کی جنگ تک ان کا استعمال کیا گیا۔ بہت سے فوجی لیڈروں کا کہنا ہے کہ بعض حالات میں یہ بہت فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ ہتھیاروں کے بارے میں جائزہ لینے والی جنیواکی کانفرنس میں امریکی وفد کے سربراہ رونالڈ بیٹر نے کہا ہے کہ کلسٹر بموں پر پابندی لگانےپر بحث کا یہ صحیح وقت نہیں ہے۔ رونالڈ بیٹر نے یہ بھی کہا ہے کہ ہماری فوج کے ساتھ ساتھ کئی ملکوں کی فوج کا بھی ماننا ہے کہ یہ ایک اہم ہتھیار ہے کیونکہ بعض حالات میں نہایت تباہ کن ہتھیار استعمال کرنے سے بہتر ہوتا ہے کہ کلسٹر بم استعمال کیے جائیں۔ تاہم لبنان کی جنگ نے سب کی توجہ اس ہتھیار کی مرکوز کر دی ہے۔ بارودی سرنگیں صاف کرنے والوں کا کہنا ہے کہ لبنان میں اس وقت ایک کروڑ کے قریب بغیر پھٹے کلسٹر بم موجود ہیں جو کئی سالوں تک شہریوں کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔ ریڈکراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے تجویز پیش کی ہے کہ اس علاقے میں موجود کلسٹر بم کبھی اچانک پھٹ بھی سکتے ہیں اس لیے اس علاقے پر پابندی لگا دی جائے اور ساتھ ہی زیادہ آبادی والے شہروں میں اس کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے بھی اس معاملے پر غور کرنے کی اپیل کی ہے۔ زمینی سرنگوں کے ماہر سائمن کانوے کا کہنا ہے کہ یہ جنگیں عوام کو متاثر کرتی ہیں اور یہ عوام کی بقا کے لیے ہی لڑی جا رہی ہیں۔ ایسے میں بہت سے شہریوں کو ہلاک کر کے اپنا مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ہتھیاروں کے متعلق اس کانفرنس کے شروع میں صرف چند ممالک ہی اس بحث میں دلچسپی لے رہے تھے مگر چند دنوں کے بعد مزید ممالک اس بحث میں شامل ہو گئے ہیں۔ غیر حکومتی اداروں کواس قدر حمایت کی توقع نہیں تھی۔ اس ہفتے کے اختتام پر جب یہ کانفرنس ختم ہوگی تو امید کی جا رہی ہے کہ رکن ممالک ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے کی بحث میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں گے۔ | اسی بارے میں بغداد حملے: 20 ہلاک 50 اغوا12 November, 2006 | آس پاس دوہرا خودکش حملہ، 35 ہلاک12 November, 2006 | آس پاس ’بیس ڈالر لے کر بم پھینکا تھا‘ 11 November, 2006 | انڈیا کشمیر بم دھماکہ، پانچ بچیاں ہلاک10 November, 2006 | پاکستان ’ حملے کا دعوی قیاس آرائی ہے‘09 November, 2006 | پاکستان پاک فوج کے تربیتی مرکز پر حملہ: 35 فوجی ہلاک 08 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||