BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ حملے کا دعوی قیاس آرائی ہے‘

درگئی ہسپتال کے باہر فوجی
حملے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے
مالاکنڈ میں درگئی کے مقام پر ایک فوجی تربیتی مرکز پر ہونے والے خود کش حملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

بدھ کی صبح ہونے والے حملے میں 42 فوجی ہلاک جبکہ کم از کم بیس افراد زخمی ہوئے تھے۔ کچھ زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔


عینی شاہدین کے مطابق خود کش بمبار نے ایک چادر لپیٹی ہوئی تھی اور عین اس وقت جب فوجی تربیتی مشقیں کر رہے تھے وہ گراؤنڈ میں آیا اور ایک دم دھماکہ ہو گیا۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے مطابق اس حملے کا تعلق باجوڑ سے یقیناً ہو سکتا ہے جہاں فوج نے کامیابی کے ساتھ القاعدہ کی مدد سے چلنے والے ایک تربیتی کیمپ کو تباہ کیا تھا۔

دوسری طرف پاکستان کے ایک سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ درگئی میں زیر تربیت بیالیس فوجی اہلکاروں کو ایک خود کش حملے میں مارے جانے کے بعد انہیں ایک پشتو بولنے والے شخص نے نامعلوم مقام سے فون کرکے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ مقامی طالبان نے کیا ہے۔

درگئی دھماکہ
ہلاک ہونے والوں کی تفصیل ابھی تک جاری نہیں کی گئی

صحافی کے مطابق فون کرنے والے نے اپنا نام نہیں بتایا لیکن حملہ کرنے والے مقامی طالبان کے کمانڈر کا نام ابو کلیم محمد انصاری بتایا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ درگئی خود کش حملہ کرنے والے بمبار نے اپنا بیان بھی ریکارڈ کروایا ہے اور اس کا ٹیپ جلد جاری کیا جائے گا۔

صحافی کے مطابق فون کرنے والے نامعلوم شخص نے انہیں بتایا کہ ان کے ہاں باجوڑ کے مدرسے پر حملے میں اسی افراد کے مارے جانے کے بعد پونے تین سو خود کش بمباروں نے اندراج کرایا ہے۔

اس بارے میں جب فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ قیاس آرائی پر مبنی ہے اور وہ اس طرح کی خبروں پر تبصرے نہیں کرتے۔

فوجی ترجمان نے بتایا کہ درگئی میں بیالیس فوجی اہلکاروں کے مارے جانے والے واقعہ کی مزید تفصیلات تاحال ان کے علم میں نہیں۔

اس سے قبل وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی نے بدھ کی شام نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 42 ہوگئی ہے۔

دریں اثناء امریکہ اور برطانیہ نے درگئی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر گورڈن جونڈرو نے کہا ہے کہ ’ہم پاکستان فوج کے تربیتی کیمپ پر خودکش حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے خاندان اور دوستوں کے ساتھ گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں‘۔

برطانیہ کی جونیئر وزیرِ خارجہ کم ہویلز نے کہا ہے کہ ’اس بزدلانہ حملے کا کوئی جواز نہیں ہے جس میں کئی افراد کی جانیں گئی ہیں‘۔

مالاکنڈ کی سرحد قبائلی علاقے باجوڑ سے ملتی ہیں جہاں گزشتہ ہفتے پاکستان فوج نے ایک مدرسے پر بمباری کر کے اسی افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ بدھ کو حملے کی زد میں آنے والا فوجی تربیتی مرکز اس مدرسے سے تقریباً تیس میل جنوب مشرق میں واقع ہے جس پر فوج نے بمباری کی تھی۔

وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ کے مطابق فوجی مرکز پر حملہ باجوڑ کا ردِ عمل ہو سکتا ہے

افغان سرحد کے قریب طالبان کے حمایتی شدت پسندوں اور القاعدہ کے ارکان کے خلاف پاک فوج کی کارروائیوں کے آغاز کے بعد، فوج کے خلاف ہونے والا یہ سب سے بڑا حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مدرسے پر پاکستانی فوج کی کارروائی کے بعد سے قبائلی کھلے عام فوج کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکیاں دے رہے تھے۔

درگئی کو تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی کا گڑھ کہا جاتا ہے۔ گزشتہ ہفتے مدرسے پر فوجی بمباری سے ہلاک ہونے والے افراد میں مدرسے کے سربراہ بھی مارے گئے تھے اور ان کا تعلق بھی تحریک نفاذِ شریعتِ محمدی سے تھا۔

وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ درگئی خود کش حملے کا باجوڑ واقعہ سے تعلق ہے اور اس بارے میں سیکورٹی ایجنسیز تحقیقات کریں گی۔انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں خود کش بمباروں کی تربیت ہورہی تھی اور انہیں لگتا ہے کہ یہ واقعہ باجوڑ کا رد عمل بھی ہوسکتا ہے۔

درگئی کے مقامی لوگوں کے مطابق یہ دھماکہ صبح ساڑھے آٹھ بجے فوجی تربیت کے مرکز کے باہر سڑک کے کنارے بڑے میدان میں ہوا جہاں زیر تربیت فوجی پریڈ کرتے ہیں اور ان کی کلاسیں ہوتی ہیں۔ یہ مرکز مردان کی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔

سڑک کے کنارے اس فوجی مرکز کے دو گراؤنڈ ہیں۔ ’خودکش حملہ‘ گراونڈ نمبر ایک میں ہوا جہاں تقریبًا ایک سو سے زیادہ فوجی زیر تربیت تھے۔ اس میدان کے اردگرد کوئی دیوار نہیں ہے جس کی وجہ سے سڑک سے ان زیرِ تربیت فوجیوں کو باآسانی دیکھا جاسکتا ہے۔

خود کش حملہ: اہم نکات
دھماکے کے بعد گراؤنڈ میں زیرِ تربیت فوجیوں کی ٹوپیاں اور جوتے جگہ جگہ بکھرے ہوئے تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ایک شخص جس نے چادر اوڑھ رکھی تھی گاڑی سے اترا اور گراؤنڈ میں داخل ہوکر اس نے دھماکہ کر دیا۔ خود کش حملہ آور کی صرف ٹانگیں بچی ہیں جنہیں شناخت کے لیئے فوجی کیمپ لے جایا گیا ہے

ایک عینی شاہد اورنگزیب نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے دھماکے کے چند منٹ بعد دیکھا کہ تربیتی مرکز میں فوجی، ہلاک ہونے والے فوجیوں کے جسم کے ادھر ادھر بکھرے ہوئے ٹکڑے اکٹھے کر رہے تھے۔ ’وہاں زخمی مر رہے تھے۔ ان کے جوتے اور کپڑے دور دور بکھرے ہوئے تھے۔‘

ملاکنڈ میں ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کی صرف ٹانگیں بچی ہیں جنہیں شناخت کے لیئے فوجی کیمپ لے جایا گیا ہے۔ تاہم حکام ابھی اس بارے میں تفصیل نہیں بتا رہے ہیں۔

مقامی صحافی ہدایت اللہ کا کہنا تھا کہ وہ فوجی مرکز کے قریب ایک سٹال پر اخبارات دیکھ رہے تھے کہ زوردار دھماکہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں ان کا خیال تھا کہ کسی گاڑی کا ٹائر پھٹا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد گراؤنڈ میں زیرِ تربیت فوجیوں کی ٹوپیاں اور جوتے جگہ جگہ بکھرے ہوئے تھے۔

خودکش حملے کیوں؟
پاکستان میں خود کش حملوں کا بڑھتا رجحان
اسی بارے میں
خود کش حملے میں 42 فوجی ہلاک
09 November, 2006 | پاکستان
7 فوجی، 14 شدت پسند ہلاک: فوج
10 January, 2006 | پاکستان
میران شاہ: سات فوجی ہلاک
10 January, 2006 | پاکستان
فوجی آپریشن کے خلاف مظاہرے
23 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد