BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 July, 2006, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں خود کش حملوں کا بڑھتا رجحان

خودکش حملوں کو حرام قرار دینے کے فتووں کے بعد بھی کراچی میں تین خودکش حملے ہوچکے ہیں
پاکستان میں خودکش بم حملوں کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے، جس میں فرقہ واریت کا عنصر حاوی نظر آتا ہے۔

ملک میں خودکش حملوں کی ابتدا کراچی سے سن دو ہزار دو میں اس وقت ہوئی جب آبدوز بنانے کے لیئے آنے والے فرانسیسیوں پر حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں نو فرانسیسی اور پانچ پاکستانی ہلاک ہوگئے تھے۔

ان حملوں کی ابتدا جہادی تنظیموں نے کی مگر یہ رجحان فرقہ وارانہ شدت پسند تنظیموں میں زیادہ مقبول ہوا، جنہوں نے چار جولائی سن دو ہزار تین کو کوئٹہ میں ایک شیعہ مسجد پر خودکش حملہ کر کے اس رحجان کو مزید ہوا دی۔

بعد میں راولپنڈی، کراچی، سیالکوٹ، لاہور، جھل مگسی اور اسلام آباد میں مساجد اور مزاروں پرخودکش حملے کیئے گئے۔

 اپنے لوگوں کو مارنا خودکشی کے مترادف ہے، اس کو جہاد نہیں کہا جاسکتا۔ فرقہ واریت میں القاعدہ کا عنصر نظر نہیں آتا کیونکہ القاعدہ کے مقاصد واضح ہیں جبکہ فرقہ واریت محدود ہے۔
معین الدین حیدر

رواں سال نو فروری کو صوبہ سرحد کے علاقے ہنگو میں محرم کے ایک ماتمی جلوس پرخودکش حملہ کیا گیا۔گیارہ اپریل کو کراچی میں نشتر پارک اور چودہ جولائی کو علامہ حسن ترابی پر خودکش حملہ کیا گیا۔

دوہزار دو سے لے کر رواں سال کے ماہ جولائی تک صرف کراچی میں خودکش بم حملوں کے آٹھ واقعات ہوچکے ہیں جن میں پانچ فرقہ وارانہ ہیں۔

پاکستان کے سابق وزیر داخلہ معین الدین حیدر ملک میں شدت پسندی کا بنیاد انقلاب ایران اور افغانستان میں روسی حملے کو سمجھتے ہیں کیونکہ ایران میں شیعہ اور افغانستان میں سنی آبادی زیادہ ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کی سرزمین پر فرقہ کی بنیاد پر کچھ ممالک جن میں مسلم ممالک بھی شامل ہیں کچھ گروہوں کی سرپرستی کرتے ہیں اور انہیں پیسے فراہم کرتے تھے۔

معین الدین حیدر کہتے ہیں کہ اپنے لوگوں کو مارنا خودکشی کے مترادف ہے، اس کو جہاد نہیں کہا جاسکتا۔ فرقہ واریت میں القاعدہ کا عنصر نظر نہیں آتا کیونکہ القاعدہ کے مقاصد واضح ہیں جبکہ فرقہ واریت محدود ہے۔

کراچی میں کیا گیا ایک اور خودکش حملہ
کراچی میں کیا گیا ایک اور خودکش حملہ

پاکستان جو دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں سرگرم کردار ادا کرتا رہا ہے، اندرونی دہشتگردانہ کارروائیوں سے سخت متاثر ہے۔

سابق وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ القاعدہ کا ایجنڈا پاکستان سے باہر ہے، جس سے مغرب خطرہ محسوس کرتے ہوئے دباؤ ڈالتا ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کا گریبان پکڑیں گے اس سے ان کے کسی مفاد کو نقصان نہیں ہے، اس لئے ایسے واقعات کے خلاف اقدامات ہماری اولیت ہونی چاہئے۔

عالمی دباؤ کے بعد صدر پرویز مشرف نے جہادی تنظیموں کے ساتھ مبینہ فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں پر بھی پابندی کی اور گزشتہ سال بھی ان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔ تاہم دہشتگردی کے واقعات میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔

 مذہبی جنونیت میں اس مقصد کے لیئے لوگ بھرتی کرنا کوئی بڑی بات نہیں، جب بیروزگاری اور غربت سے لوگ خودکشی کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ کا برین واش کرکے جنت کے خواب دکھاکر یہ کام کرایا جاتا ہے۔
اقبال حیدر

خود کش حملوں کی روک تھام کے لیئے حکومت نے علماء سے بھی مدد لی۔ گزشتہ سال لاہور میں مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے اٹھاون علماء نے فتویٰ جاری کیا کہ کسی اسلامی ملک کے اندر عوامی مقامات پر خود کش حملے کرنا اسلام میں حرام ہے اور اسے ثواب سمجھ کر کرنے والا اسلام سے خارج ہے۔

مگر اس اعلان کے بعد بھی کراچی میں تین خودکش حملے ہوچکے ہیں۔

معین الدین حیدر
’ملک میں قانون کی حکمرانی کی ضرورت ہے‘

پاکستان انسانی حقوق کمیشن کا خیال ہے کہ اس شدت پسندی کے لیئےحکام خود ذمہ دار ہیں جنہوں نے کبھی اس کا سختی سے نوٹس نہیں لیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے جنرل سیکریٹری اقبال حیدر کا کہنا ہے ’ کیا کہ دنیا کے ستاون مسلم ممالک میں سے کسی اور میں فرقہ واریت نہیں ہے؟ وہاں کیوں مذہبی تعصب اور ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے جاری نہیں کیئے جاتے‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ملکی قانون اور آئین کے تحت فرقے کی بنیاد پر سیاست اور الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہے مگر یہاں پر ان تنظیموں کو رجسٹر کیا گیا اور الیکشن میں حصہ لینے کی اجازی دی گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشتگردی کی بڑی وارداتوں میں کچھ لوگ گرفتار بھی کیئے گئے ہیں مگر شہادتیں کمزور ہونے کی وجہ سے عدالت ان کو بری کرتی رہی ہے۔ کراچی میں ایسی وارداتوں میں ملوث بعض ملزمان اہم مقدمات سے بری ہوچکے ہیں۔

معین الدین حیدر کا کہنا ہے کہ عدالتیں کہتی ہیں کہ ثبوت ناکافی ہیں۔ اس کے علاوہ عدالتوں، وکیلوں اور پولیس میں خوف کا عنصر بھی ہے۔ انہیں دھمکی دی جاتی ہے کہ ’ تم ہمارے گرد گھیراؤ تنگ کروگے، ہم تمہارے خاندان کو اڑادیں گے‘۔

فتوے
گزشتہ سال لاہور میں مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے اٹھاون علماء نے فتویٰ جاری کیا کہ کسی اسلامی ملک کے اندر عوامی مقامات پر خود کش حملے کرنا اسلام میں حرام ہے اور اسے ثواب سمجھ کر کرنے والا اسلام سے خارج ہے۔

معین حیدر، جو گورنر سندھ بھی رہے ہیں، کہتے ہیں کہ جب سزائیں نہیں ملیں گی تو یہ دوسروں کے لیئے کیسے باعث عبرت بنیں گے۔اس لیئے ہمیں شہادت کے جدید طریقے استعمال کرنے پڑیں گے جس میں ڈی این اے، وڈیو فوٹو گرافس موبائل کا استعمال شامل ہے۔

انسانی حقوق کے رہنما خوکش بمباروں کی بھرتی کے لیئے غربت، بیروزگاری اور ناخواندگی کو اہم سبب قرار دیتے ہیں۔ اقبال حیدر کے مطابق مذہبی جنونیت میں اس مقصد کے لیئے لوگ بھرتی کرنا کوئی بڑی بات نہیں، جب بیروزگاری اور غربت سے لوگ خودکشی کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ کا برین واش کرکے جنت کے خواب دکھاکر یہ کام کرایا جاتا ہے۔

جبکہ معین حیدر اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تاثر غلط ہے جب پاکستان بنا تھا، اس وقت اس سے کہیں زیادہ غربت اور بیروزگاری تھی مگر اس وقت ایسی کوئی صورتحال نہیں بنی تھی۔

پاکستان سے شدت پسندی خاتمے کے بارے میں معین الدین حیدر کہتے ہیں کہ یہاں قانون کی حکمرانی کی ضرورت ہے، لوگوں سے غیرقانونی اسلحہ واپس لیا جائے ، اور یہ واضح کردیا جائے کہ جو بھی نفرت پھیلانے کے لئے تنظیم بنائےگا اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد