خود کش حملہ، حسن ترابی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شیعہ رہنما علامہ حسن ترابی کراچی میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ حملے کے نتیجے میں حملہ آور کے علاہ علامہ حسن ترابی کا ایک بھانجا بھی ہلاک ہوگیا جبکہ دو پولیس گارڈ زخمی ہوئے ہیں۔ علامہ حسن کی ہلاکت کے بعد مشتعل افراد نے ایم اے جناح روڈ پر پتھراؤ کرکے ٹریفک معطل کردی جبکہ ایک فائر بریگیڈ سمیت چار گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ کراچی کے علاقے واٹر پمپ پر نامعلوم افراد نے دکانیں بند کروانے کی کوشش کی۔ اس دوران فائرنگ بھی کی گئی جس میں ایک شخص صاحب رحمان قتل ہوگیا۔ شہر میں سخت خوف ہراس کا ماحول چھایا ہوا ہے۔ علامہ حسن ترابی پر حملہ جمعہ کی دوپہر چار بجے کے قریب سہراب گوٹھ کے نزدیک عباس ٹاون میں ان کےگھر کے باہر کیا گیا۔ پولیس کے مطابق علامہ حسن ترابی گھر کے سامنے جیسے ہی اپنی ڈبل کیبن گاڑی سے اترے تو کالے رنگ کا امامہ پہنے ہوئے ایک نوجوان نے ان پر حملہ کر دیا۔ دھماکے کے ساتھ حملہ آور کا جسم ٹکڑوں میں بٹ گیا اور علامہ حسن ترابی کے بھانجے علی عباس موقع پر ہی فوت ہوگئے جبکہ وہ خود اور ان کے دو پولیس گارڈ شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو مقامی پٹیل ہسپتال پہنچایا گیا جہاں کچھ ہی دیر بعد علامہ ترابی کا انتقال ہوگیا۔
مشتعل افراد نے اس موقع پر امریکہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ کراچی میں جمعہ کی نماز کے بعد ایم ایم اے کی جانب سے ’’فلسطینی عوام سے یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت‘‘ کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا جس میں علامہ حسن ترابی نے، جو ایم ایم کے صوبائی رہنما تھے، بھی شرکت کی تھی۔ کچھ عرصے قبل بھی علامہ حسن ترابی پر حملہ کیا گیا تھا جس میں ان کی گاڑی کو نقصان پہنچا تھا اور وہ معمولی زخمی ہوئے تھے۔ علامہ حسن ترابی کی ہلاکت کے بعد شہر میں صورتحال کشیدہ ہے۔ سندھ کے وزیر داخلہ رؤف صدیقی نے شہر میں ریڈ الرٹ کا اعلان کیا ہے اور بتایا ہے کہ سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر رینجرز کو طلب کر لیا گیا ہے۔ حسن ترابی کی میت مرکزی امام بارگاہ شاہ خراساں لائی گئی اس سےقبل مشتعل نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جن کے ہاتھوں میں پتھر اور ڈنڈے تھے شہر کے مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر نکل آئے جس وجہ سے ٹریفِک معطل ہوگئی۔ مشتعل افراد نے پولیس پر بھی پتھراؤ کیا اور کچھ راہگیروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
اس موقع پر صحافیوں کو تصویریں لینے اور ویڈیو بنانے سے روکنے کے لیے دھمکیاں بھی دی گئیں۔ پولیس نے مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی تو نامعلوم افراد نے پولیس پر فائرنگ کردی اور پولیس کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ شاہ خراساں کے قریب جو قائد اعظم کی مزار کے نزدیک ہے تین بسوں اور دو دکانوں کو نذر آتش کردیا، جب فائر برگیڈ گاڑی آگ بجھانے کے لیے پہنچی تو اس کو بھی آگ لگا دی گئی۔ لوگوں کے گھروں کی واپسی کے وقت مرکزی شاہراہ بلاک ہونے کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ ٹریفِک میں پھنس گئے پولیس نے انہیں متبادل راستوں سے روانہ کیا۔ لاہور میں مظاہرہ علامہ حسن ترابی کی ہلاکت کے خلاف لاہور پریس کلب کے سامنے امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر انتظام بھی ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ مظاہرین نے ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کر دی اور حکومت اور امریکہ کے خلاف نعرےبازی کی۔ اطلاع ملنے پرپولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر پہنچ گئی۔ دری اثناء شیعہ تنظیموں کی جانب سے ہفتے کے روز ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے جس کی ایم ایم اے نے بھی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ | اسی بارے میں کراچی میں بم دھماکہ، تین زخمی06 April, 2006 | پاکستان دھماکے میں چالیس ہلاک: شیر پاؤ11 April, 2006 | پاکستان ممبئی دھماکے: کراچی میں الرٹ12 July, 2006 | پاکستان شیعہ عالم دین اور ڈرائیور ہلاک 18 April, 2006 | پاکستان شیعہ کارکنوں کی گرفتاری پر احتجاج22 May, 2006 | پاکستان کراچی: امام بارگاہ پر خودکش حملہ30 May, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||