BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 May, 2006, 17:09 GMT 22:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیعہ کارکنوں کی گرفتاری پر احتجاج

احتجاج کے دوران مائیں انتہائی جذباتی انداز میں نعرہ بازی کرتی رہیں
کراچی میں شیعہ تنظیموں کے کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف پیر کی شام احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیاگیا۔

امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، جعفریہ الائنس اور پاسبان عزا نامی تنظیموں سے تعلق والے یہ بارہ کارکن گزشتہ ایک ماہ سے لاپتہ ہیں جن کے بارے میں ورثاء کا کہنا ہے کہ انہیں گرفتار کیاگیا ہے جبکہ پولیس اس سے لاعلمی کا اظہار کرتی رہی ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے سامنے ہونے والے اس مظاہرے کا انتظام جعفریہ الائنس کی جانب سے کیا گیا تھا، جس نے امام بارگاہ علی رضا کے سامنے ایم اے جناح روڈ پر دھرنا بھی دیا۔

احتجاج میں گرفتار شدگان کے اہل خانہ اور بچے بھی شریک تھے، جن میں سے کچھ کی مائیں انتہائی جذباتی انداز میں نعرہ بازی کرتی رہیں اور ان میں سے کچھ آنسو بہاتے ہوئے بیہوش ہوگئیں۔

گرفتار ہونے والے عابد رضا زیدی کی ماں نے بی بی سی کو بتایا کہ عابد کراچی یونیورسٹی میں زولوجی شعبے میں پی ایچ ڈی کے طالبعلم ہیں جو ایک ماہ سے ایجسنیوں کے پاس زیر حراست ہیں۔

احتجاج
مظاہرے کا انتظام جعفریہ الائنس کی جانب سے کیا گیا

انہوں نے بتایا کہ عابد کو فون آیا کہ پولیس نے بلایا ہے جس پر وہ تھانے چلاگیا اور پھر گھر واپس نہیں آیا مگر اب پولیس یہ ماننے کو تیار نہیں ہے۔

امام بارگاہ شاہ خراساں سے گرفتار ہونے والی ناصر حسین کی ماں نے بتایا ’ہمیں معلوم نہیں کہ انہیں کیوں گرفتار کیا گیا ہے ہمیں کوئی بتانے والا بھی نہیں ہے‘۔
انہوں نے بتایا کہ ناصر حسین شاہ خراساں نماز پڑھنے گیا تھا اور اس نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔

گرفتار ہونے والے نوجوان علی حیدر کی بیوی نے جن کے ساتھ ایک سال کی بچی بھی تھی کہا کہ ’انہیں کوئی احساس نہیں ہے بے گناہوں کی مائیں بہنیں رستوں پر آگئی ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کے شوہر نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے ثابت کریں، ’ہمیں یہ تو بتایا جائے کہ انہیں اس ملک کی ایجنسی نے گرفتار کیا ہے یا امریکی ایجنسی نے‘۔

واضح رہے کہ نشتر پارک بم دھماکے کے بعد تحقیقاتی اداروں کی جانب سے بڑی تعداد میں مختلف جماعتوں کے لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا مگر کسی کو بھی سامنے نہیں لایا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد