عاشورہ پر سخت حفاظتی اقدامات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں جمعرات کو عاشورہ کے دوران حفاظتی اقدامات کے طور پر پانچ ہزار پولیس اور نیم فوجی دستے کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ جلوس کے راستے پر کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ کوئٹہ کے علاوہ ملک کے دیگر کئی شہروں اور قصبوں میں بھی سخت حفاظتی اقدامات کیئے گئے ہیں اور حساس مقامات کی نشاندہی کرکے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ فوج کو بھی چوکس رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان چوہدری محمد یعقوب نے بتایا ہے کہ جلوس کے راستے سیل کر دئیے گئے ہیں اور فوج کو چوکس رکھا گیا ہے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹا جا سکے۔ کوئٹہ میں ساڑ ھے تین ہزار پولیس اہلکار اور ڈیڑھ ہزار ایف سی کے اہلکار وں کو حساس مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر چوکیاں قائم ہیں۔ کوئٹہ میں سن دو ہزار چار میں عاشورہ کے جلوس پر خود کش حملے سے پچاس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو زخمی ہو گئے تھے۔ اس طرح سن دوہزار تین میں دو بڑے واقعات ہوئے تھے ۔ ایک واقعہ میں بارہ پولیس کے جوانوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا اور دوسرے واقعہ میں ایک امام بارگاہ میں خود کش حملے سے پچاس کے قریب افراد ہلاک اور سو زخمی ہو گئے تھے۔ شیعہ قائدین کے مطابق گزشتہ سال سے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات تو ہوئے ہیں لیکن اب ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے جس میں صوبہ بھر میں اب تک نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فرقہ وارانہ تشدد بلوچستان میں پہلے کبھی نہیں تھا لیکن سن انیس سو ننانوے کے بعد واقعات کا سلسلہ شروع ہو جسمیں اب تک ایک سو بیس کے قریب افراد ہلاک اور اڑھائی سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں کوئٹہ میں سرکاری ملازم ہلاک14 September, 2005 | پاکستان کوئٹہ میں ریٹائرڈ شیعہ افسر قتل18 July, 2005 | پاکستان مساجد میں نمازیوں کی تلاشی 08 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||