کالعدم تنظیم کے ملوث ہونے کا شبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی پولیس کو شبہ ہے کہ علامہ حسن ترابی کے قتل میں کالعدم شدت پسند تنظیم ملوث ہے۔ علامہ حسن ترابی اور ان کا بھانجا جمعہ کی روز ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ کراچی پولیس خودکش بمبار کے سر کی مدد سے اس کی شناخت کی کوششوں میں مصروف ہے۔ پولیس کو قومی رجسٹریشن اتھارٹی نادرہ کے ریکارڈ سے بمبار کی شناخت کرنے میں ابھی تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ تفتیشی پولیس افسر کے مطابق نادرہ نے جس شحض کی نشاندہی کی تھی وہ شاہ فیصل کالونی کا رہائشی تھا جب پولیس تصدیق کے لیئے پہنچی تو وہ زندہ موجود تھا۔ اس واقعے سے قبل کراچی میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات میں تین خودکش بم حملے ہوچکے ہیں۔ دو سال قبل حیدری مسجد اور امام بارگاہ علی رضا میں دوران نماز خودکش حملے کیئےگئے تھے۔ جبکہ گزشتہ سال مدرسہ مدینۃ العلم گلشن اقبال میں خودکش حملہ کیا گیا تھا۔ پولیس کو ان واقعات میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تھے اور پولیس نے کچھ ملزمان کو گرفتار بھی کیا تھا۔ ان واقعات اور اس سے قبل علامہ حسن ترابی پر ہونے والے حملے کے روشنی میں پولیس کو شبہ ہے کہ اس میں بھی وہی شدت پسند تنظیم ملوث ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب شیعہ علماء کونسل سندھ کے سربراہ قمر عباس کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس کے پاس دو افراد ریاض عرف ریاض معاویہ اور الطاف عرف قاری الطاف زیر حراست ہیں جو کراچی میں اس نوعیت کے خودکش حملوں کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں۔ دریں اثنا علامہ حسن ترابی کا سوئم عباس ٹاؤن کی مسجد مصطفیٰ میں ہوا جس میں سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔ قرآن خوانی سے قبل بم ڈسپوزل اسکواڈ نے مسجد کی تلاشی کی اور عباس ٹاؤن میں پولیس کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ | اسی بارے میں خود کش حملہ، حسن ترابی ہلاک14 July, 2006 | پاکستان کراچی: نمازِ جنازہ کے بعد ہنگامے15 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||