کراچی: نمازِ جنازہ کے بعد ہنگامے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
علامہ حسن ترابی کی نمازِ جنازہ کے بعد تدفین کے لیئے کراچی میں عباس ٹاؤن جانے والے مشتعل افراد نے شدید ہنگامہ آرائی کی۔ سولجر بازار، پرانی سبزی منڈی، حسن سکوائر اور گلشن اقبال کے علاقے میں بارہ سے زائد گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا جبکہ ایکسپو سنٹر کے سامنے واقع فاسٹ فوڈ ریستوران پیزا ہٹ اور کے ای ایس سی کے ایک مرکزِ شکایت کو بھی آگ لگا دی گئی۔ نیپا چورنگی اور حسن سکوائر کے علاقے میں شدید فائرنگ بھی کی گئی جبکہ مسلم کمرشل بینک سمیت مختلف مقامات پر تین پٹرول پمپوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔ پیزا ہٹ کو اس وقت نذر آتش کیا گیا جب اس میں لوگ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے۔ آگ لگنے کے بعد لوگوں کو باہر نکال لیاگیا۔کچھ مشتعل افراد نے نیپا چورنگی پر ایک پولیس چوکی کو بھی نذر آتش کیا۔ اس سے قبل علامہ حسن ترابی کی نماز جنازہ امام بارگاہ علی رضا کی بجائے امام بارگاہ شاہ خراساں میں ادا کی گئی، جس میں ایم ایم اے کے رہنما لیاقت بلوچ، علامہ ساجد نقوی، نثار کھوڑو، جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ انہیں گزشتہ رات آگاہ کیا گیا تھا کہ ایک مرتبہ پھر سانحہ نشتر پارک دہرایا جاسکتا ہے اس لیئے نماز کی جگہ تبدیل کی گئی۔ نمازِ جنازہ کے لیئے جمع ہونے والے افراد سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ علامہ ترابی کی شہادت اس بات کی دلیل ہے کہ اس ملک کا نظام جن ہاتھوں میں ہے انہوں نے سوائے مارا ماری کے کچھ نہیں دیا ہے۔ ان کے مطابق اس ملک میں جنگل کا قانون ہے فرقہ پرست دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی بلکہ انہیں بری کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ علامہ حسن ترابی جمعہ کی شام ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئے تھےجس کے خلاف شیعہ تنظیموں اور ایم ایم اے کی جانب سے ہڑتال کی اپیل کی گئی تھی۔
گزشتہ شب چار بسوں کی نذر آتش کرنے اور ہڑتال کی اپیل کی وجہ سے اندرون ملک اور شہر کے اندر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند رہی جبکہ نجی گاڑیاں بھی کم تعداد میں دیکھنے میں آئیں۔ شہر کے تعلیمی اداروں میں ہونے والے امتحانات ملتوی کر دیئے گئے۔ نمائش چوک پر ایک پٹرول پمپ کو آگ لگانے کے بعد رات سے ہی شہر کے پٹرول پمپ بند ہوگئے جس وجہ سے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنما محمد سمیع کے مطابق ’ہم نہیں چاہتے کہ عوام کو تکلیف پہنچے مگر لوگوں کو بھی ہمارا خیال رکھنا چاہیئے۔‘ ان کے مطابق پولیس نے انہیں یہ کہہ کر تحفظ فراہم کرنے سے انکار کر دیا کہ پولیس کے پاس افرادی قوت کی کمی ہے۔ ایم ایم اے کے رہنما اور شیعہ علما کونسل کے سربراہ قمر عباس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر حکام ملزمان کی گرفتاری میں ناکام رہے تو کونسل کا اجلاس طلب کرکے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامہ آرائی اور صحافیوں پر تشدد سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ وہ پرامن احتجاج پر یقین رکھتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شیعہ سُنیوں کا کوئی اختلاف نہیں ہے اور ایم ایم اے کے قیام کے بعد ملک سے فرقہ ورایت کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ دریں اثنا سندھ حکومت نے علامہ حسن ترابی کے قتل میں ملوث ملزمان اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری میں مدد کرنے والے کے لیئے پچاس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ نے واقعے کی تحقیقات سندھ ہائی کورٹ کے جج سے کروانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ سندھ پولیس کے سربراہ نے کراچی شہر کے پولیس چیف کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم بنائی ہے۔ آئی جی نے ایک اجلاس میں پولیس حکام کو ہدایت کی کہ حملے کی مختلف زاویوں سے تحقیق کی جائے اور فرقہ وارنہ دہشتگردی کے پہلو کو بھی مد نظر رکھا جائے۔ | اسی بارے میں ملزمان کی گرفتاری پر پچاس لاکھ روپے15 July, 2006 | پاکستان خود کش حملہ، حسن ترابی ہلاک14 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||