BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 November, 2006, 13:04 GMT 18:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خودکش حملہ آور کے ساتھی کی تلاش

دھماکے کے بعد وقوعہ پر تعینات فوجی اہلکار
صوبہ سرحد کے علاقے درگئی کے قریب پنجاب ریجمنٹ کے تربیتی مرکز پر خود کش حملے کے بعد فوج اور سکیورٹی اہل کار خود کش حملہ آور کے ساتھی کی تلاش کر رہے ہیں۔

عینی شاہدوں کے مطابق حملے کے بعد فوج اور سکیورٹی اہل کاروں کی ایک بڑی تعداد نے وقوعہ سے دو کلو میٹر دور موسی بابا کے گاؤں کے قریب گنے کے کھیتوں کو گھیرے میں لے لیا۔

اطلاعات کے مطابق فوج اور سکیورٹی اہلکاروں کو شبہہ تھا کہ ان کھیتوں میں خود کش حملہ آوور کا ایک ساتھی روپوش ہے۔ ذرائع کے مطابق خود کش حملہ آوور کے ساتھی کی تلاش کے لیئے فوج نے تربیت یافتہ کتوں کی مدد بھی طلب کر لی ہے جہنیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے وہاں پہنچایا جا رہا ہے۔

گاؤں والوں کے مطابق انہوں نے کھیتوں کی طرف گولیوں کے چلنے کی آوازیں بھی سنیں ہیں۔

درگئی میں پنجاب ریجمنٹ کے تربیتی مرکز پر خود کش حملے کی اطلاع ملتے ہی پشاور سے بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندے وہاں پہنچا شروع ہو گئے۔

تربیتی مرکز کے قریب جس میدان میں یہ خود کش حملہ ہوا تھا اسے بڑی تعداد میں فوج اور لیویز کے اہلکاروں نے گھیرے میں لے رکھا تھا اور کسی شخص کو میدان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔

موقع پر موجود اخبار نویسوں نے تربیتی مرکز سے چودہ ایمبولینسوں کو نکلتے ہوئے دیکھا جن میں اطلاعات کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشوں کو پشاور منتقل کیا جا رہا تھا۔

اسی بارے میں
فوج پر حملے، کب اور کیسے
08 November, 2006 | پاکستان
گورنر سرحد پر راکٹ حملہ
07 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد