خودکش حملہ آور کے ساتھی کی تلاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے علاقے درگئی کے قریب پنجاب ریجمنٹ کے تربیتی مرکز پر خود کش حملے کے بعد فوج اور سکیورٹی اہل کار خود کش حملہ آور کے ساتھی کی تلاش کر رہے ہیں۔ عینی شاہدوں کے مطابق حملے کے بعد فوج اور سکیورٹی اہل کاروں کی ایک بڑی تعداد نے وقوعہ سے دو کلو میٹر دور موسی بابا کے گاؤں کے قریب گنے کے کھیتوں کو گھیرے میں لے لیا۔ اطلاعات کے مطابق فوج اور سکیورٹی اہلکاروں کو شبہہ تھا کہ ان کھیتوں میں خود کش حملہ آوور کا ایک ساتھی روپوش ہے۔ ذرائع کے مطابق خود کش حملہ آوور کے ساتھی کی تلاش کے لیئے فوج نے تربیت یافتہ کتوں کی مدد بھی طلب کر لی ہے جہنیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے وہاں پہنچایا جا رہا ہے۔ گاؤں والوں کے مطابق انہوں نے کھیتوں کی طرف گولیوں کے چلنے کی آوازیں بھی سنیں ہیں۔ درگئی میں پنجاب ریجمنٹ کے تربیتی مرکز پر خود کش حملے کی اطلاع ملتے ہی پشاور سے بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندے وہاں پہنچا شروع ہو گئے۔ تربیتی مرکز کے قریب جس میدان میں یہ خود کش حملہ ہوا تھا اسے بڑی تعداد میں فوج اور لیویز کے اہلکاروں نے گھیرے میں لے رکھا تھا اور کسی شخص کو میدان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ موقع پر موجود اخبار نویسوں نے تربیتی مرکز سے چودہ ایمبولینسوں کو نکلتے ہوئے دیکھا جن میں اطلاعات کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشوں کو پشاور منتقل کیا جا رہا تھا۔ | اسی بارے میں پاک فوج کے تربیتی مرکز پر ’خودکش‘ حملہ: 42 فوجی ہلاک 08 November, 2006 | پاکستان فوج پر حملے، کب اور کیسے08 November, 2006 | پاکستان گورنر سرحد پر راکٹ حملہ07 November, 2006 | پاکستان باجوڑکے زخمی نامعلوم جگہ منتقل06 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||