فوج پر حملے، کب اور کیسے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیرستان میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے صوبہ سرحد اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں فوج پر حملے کیئے جاتے رہے ہیں۔ تاہم درگئی میں ہونے والا خود کش حملہ ہلاک شدگان کی تعداد کے اعتبار سے فوج پر کیا جانے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔ فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس حملے میں پینتیس فوجی جوان مارے گئے ہیں جبکہ بیس جوان زخمی ہیں۔ اس سے قبل پاکستانی سر زمین پر انتہاپسندوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران کسی ایک کارروائی میں سکیورٹی فورسز کو زیادہ سے زیادہ انیس جوانوں کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ یہ واقعہ بائیس مارچ سنہ دو ہزار چار کو جنوبی وزیرستان میں سروکئی کے مقام پر پیش آیا تھا جہاں ایک فوجی قافلے پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا تھا جس میں گیارہ سکیورٹی اہلکار موقع پر ہلاک ہو گئے تھے جبکہ حملہ آور آٹھ اہلکاروں کو اغواء کر کے لے گئے تھے جن کی لاشیں چار دن بعد ملی تھیں۔ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا تیسرا بڑا واقعہ سولہ مارچ دو ہزار چار کو ہوا جب وانا سکاؤٹس کے سولہ جوان وانا سے دس کلومیٹر دور ایک فوجی آپریشن کے دوران مارے گئے تھے۔ ہلاکتوں کی چوتھی بڑی تعداد ستمبر دو ہزار پانچ میں شمالی وزیرستان میں سامنے آئی جب ایک سرچ آپریشن کے دوران ایک میجر سمیت گیارہ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔ وزیرستان ایجنسی اور خصوصاً جنوبی وزیرستان کا علاقہ پاکستان کی سکیورٹی افواج کے لیئے غیر محفوظ ہی ثابت ہوتا رہا ہے اور یہی وہ علاقہ ہے جہاں گزشتہ چند برسوں کے دوران اور خصوصاً سنہ دو ہزار چار میں فوجی قافلوں پر سب سے زیادہ حملے کیئے گئے۔ جنوبی وزیرستان کا صدر مقام وانا ہی وہ علاقہ ہے جہاں پاک فوج پر پانچواں بڑا حملہ ہوا۔ یہ واقعہ پچیس جون دو ہزار دو کو پیش آیا اور اس میں ایک میجر اور ایک کیپٹن سمیت دس فوجی مارے گئے تھے۔ اس واقعہ کے ڈھائی سال بعد چار نومبر دو ہزار چار کو بھی جنوبی وزیرستان کے علاقے شولام میں سکیورٹی اہلکاروں کے ایک ٹرک کو ریموٹ کنٹرول بم سے اڑا دیا گیا تھا جس سے آٹھ فوجی ہلاک اور دس زخمی ہوئے تھے اور یہ ہلاکتوں کے اعتبار سے اب تک کی چھٹی بڑی تعداد ہے۔ مجموعی ہلاکتوں کا ساتواں بڑا واقعہ حالیہ برس اس وقت پیش آیا تھا جب میران شاہ سے تقریباً دس کلومیٹر مشرق میں ایشا چوکی کے مقام پر ایک خود کش حملے میں سات سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔ شمالی وزیرستان میں دو ہزار چھ کے ابتدائی ماہ میں بھی سکیورٹی افواج پر دو خود کش حملے ہوئے تھے تاہم ان میں کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ تاہم شمالی وزیرستان میں ہی بیس اپریل سنہ دو ہزار چھ کی صبح نامعلوم افراد نے میران شاہ سے رزمک جانے والے مہمند رائفلز کے ایک قافلے پر حملہ کر کے سات فوجیوں کو ہلاک اور چھبیس کو شدید زخمی کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ ان چیدہ چیدہ واقعات کے علاوہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کی ایک قابلِ ذکر تعداد مختلف واقعات میں حملوں کا نشانہ بن کر اپنی جان سے ہاتھ دھو چکی ہے۔ |
اسی بارے میں پاک فوج کے تربیتی مرکز پر حملہ: 35 فوجی ہلاک 08 November, 2006 | پاکستان فوج کے تربیتی مرکز پر حملہ: 35 فوجی ہلاک 08 November, 2006 | پاکستان گورنر سرحد پر راکٹ حملہ07 November, 2006 | پاکستان ’تلاشی لی تو خودکش حملہ ہوگا‘29 May, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||