’خودکش حملہ آور بنیئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان اورعراق میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کےخلاف سرگرم طالبان اور القاعدہ نےعوام کی ہمدردیاں جیتنے کے لیۓ سی ڈیز کے ذریعے اپنی ’پروپیگنڈہ مہم‘ بظاہر تیز کردی ہے۔ ان ویڈیوز کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کوامریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اس انداز سے بھڑکایا جاتاہے کہ ان میں جذبہ جہاد پیدا ہو اور وہ ’حق اور باطل‘ کی اس جنگ میں غیر مسلموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ یہ سی ڈیز بازاروں میں کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور مقامی پولیس نے کئی مرتبہ ان کے خلاف کارروائی کی مگر پشاور کے نشترآباد اور کارخانو مارکیٹ میں آج بھی یہ سی ڈیز باآسانی دستیاب ہیں۔ پشاور کے کارخانو مارکیٹ میں ایک دوکاندار بخت ولی کا کہنا ہے کہ ’روزانہ تقریباً اسی سے لےکرسو تک سی ڈیز فروخت ہوتی ہیں اور لینے والوں میں زیادہ تر نوجوان ہیں‘۔ ان سی ڈیز کے ذریعے افغانستان اور عراق میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی موجودگی کےخلاف مسلمانوں کے جذبات کو للکارتے ہوئے قرآنی آیات کے ذریعےجہاد کا پیغام دیا جاتا ہے۔ افغانستان اور عراق کے مسلمانوں پر ’ڈھائے جانے والے مظالم‘ کی ایسی تصویر کشی کی جاتی ہے کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں غیر ارادی طورپر نم ہوجاتی ہیں۔ مساجد اور دوسرے مقدس مقامات کی بے حرمتی، امریکہ اوراس کے اتحادیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے عورتوں اور بچوں کی لاشوں کو اس انداز سے دکھایا جاتا ہے کہ امریکہ اور مغربی دنیا کے خلاف مسلمانوں کے جذبات کو ہوا ملے۔
’حقیقت الموت‘ نامی ایک سی ڈی میں ایک عمررسیدہ باریش خودکش حملہ آور کو لوگوں سے کچھ یوں خطاب کرتے ہوے دکھایا گیا ہے کہ ’افغانستان کے محترم بزرگو: خود کش حملے مضبوط دشمن کو مات دینے کا واحد حل ہے۔ شہید ہوکر خود جنت میں جاؤ اور دشمن کو واصل جہنم کرو۔ اگر آپ خود کش حملے نہیں کرسکتےتو کم از کم مزدور حکومت کے آلہ کار تو مت بنو، ان سے تعاون تو مت کرو۔‘ اسی پیغام کے ساتھ ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دیتی ہے اور انسانی جسم کے پرخچے ہوا میں اڑتے دکھا ئی دیتے ہیں اور سکرین پر لکھے ہوے پیغام میں خبر دی جاتی ہے کہ اس فدائی حملے میں ایک شہید اور تیرہ امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ بعض سی ڈیز میں طالبان جنگجوؤں کو تربیت لیتے اور دیتے ہوئے بھی دکھایا جاتا ہے جبکہ بعض میں کچھ نوجوانوں کو خودکش حملوں کے لیۓ اپنے آپ کو رجسٹر کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔
کبھی کبھار ان سی ڈیز میں امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش اور ان کی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس کو پریشان حالت میں دکھا کر جنگجوؤں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ امریکہ اپنے کیے پرپچھتا رہا ہے اور یہ کہ بہت جلد طالبان کی کارروائیاں رنگ لائیں گی۔ اُمت سٹوڈیو، قندھار جہادی سٹوڈیو، جنڈولہ سی ڈی سنٹر اور اسلامک میڈیا فرنٹ سٹوڈیو میں تیار ہونے والے ان سی ڈیز پر مزید معلومات درج نہیں ہوتی کہ یہ سٹوڈیوز کہاں پر قائم ہیں اور کون لوگ ان سی ڈیز کو بناتے ہیں۔ فلم میں مختلف سین (مناظر) کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیئے کبھی کبھار ہالی وڈ کے بعض کلپوں کا سہارابھی لیا جاتاہے۔ پچاس روپے کے عوض فروخت ہونے والی یہ سی ڈیز مارکیٹ میں جنگی سی ڈیز کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ سی ڈیز عام طور پر پشتو، عربی اور اردو زبانوں میں تیار کی جاتی ہیں ۔
کارخانو مارکیٹ کے ایک دکاندار خالد جان کہتے ہیں کہ پہلے زیادہ تر لوگ ہندوستانی فلمیں لےجاتےتھے لیکن جب سے جنگی سی ڈیز مارکیٹ میں آئی ہیں، اکثر لوگ یہی لےجاتے ہیں۔ خالد جان کی دوکان پر آئے ہوئے ایک خریدار چوبیس سالہ اختر زمان سےجب میں نے جنگی سی ڈیز دیکھنے میں ان کی دلچسپی کی وجہ پوچھی تو ان کا جواب تھا: ’دیکھیں جی ان سی ڈیز میں آپ کو حقیقی طور پر وہ کچھ ملے گا جو آپ کو نہ تو بالی وڈ، لالی وڈ یا ہالی وڈ میں ملے گا‘۔ امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے بھی اپنے ایک بیان میں تسلیم کیا تھا کہ ہم القاعدہ کے خلاف پروپیگنڈا جنگ ہار رہے ہیں۔ | اسی بارے میں افغان لڑکی سے ’زیادتی‘پرشکایت27 July, 2006 | پاکستان ’پاکستان کا حقیقی تعاون درکار ہے‘30 July, 2006 | پاکستان انگور اڈہ میں ایک اور قبائلی ہلاک10 August, 2006 | پاکستان اٹھاون طالبان افغانستان کے حوالے23 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||