افغان لڑکی سے ’زیادتی‘پرشکایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور میں قائم افغان قونصلیٹ نے ایک سولہ سالہ افغان دوشیزہ کے ساتھ پشاور کے ایک سابق یونین کونسل ناظم کی مبینہ زیادتی کے خلاف حکومت پاکستان سے باضابطہ طور پر تحریری شکایت کی ہے۔ جمعرات کے روز پشاور میں متعین افغان قونصل جنرل عبدالخالق فراحی نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ بدھ کو ایک چھ رکنی افغان فیملی کی سربراہ خاتون شائمہ نے افغان قونصلیٹ میں آ کر شکایت کی کہ ان کی سولہ بیٹی فیروزہ کو یونین کونسل خالصہ ون پشاور کے ایک سابق ناظم ملک سجاد نے شادی کا جھانسہ دے کر دو سال تک مبینہ طور پر اس کی عزت لوٹی اور بعد میں جب لڑکی حاملہ ہوئی تو شادی سے انکار کرتے ہوئے انہیں گھر سے نکال دیا۔ قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ متاثرہ فیملی نےگزشتہ رات قونصل خانے میں گزاری جس کے بعد ان کی درخواست پر صوبائی حکومت نے اس فیملی کو دارالاامان بھجوا دیا۔ عبدالخالق فراحی نے بتایا کہ افغان قونصلیٹ نے پاکستانی وزارتِ خارجہ کو اس سلسلے میں باقاعدہ تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے جہاں سے تاحال جواب نہیں آیا لیکن انہیں یقین ہے کہ پاکستانی حکومت اس بارے میں ملزموں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کرے گی اور متاثرہ خاندان کو انصاف دلائے گی۔ قونصل جنرل نے متاثرہ خاندان کو ہر ممکن قانونی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
اس سے قبل پشاور پریس کلب میں متاثرہ افغان دوشیزہ فیروزہ نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ان کا تعلق افغانستان کے صوبے لوگر سے ہے اور وہ چھ سال قبل پاکستان آئیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد انتقال کر چکے ہیں اور ان کی والدہ، دو بہنوں اور ایک بھائی پر مشتمل خاندان ہے جو کہ سابق یونین ناظم ملک سجاد کے کوارٹر میں کرایہ دار تھے۔ فیروزہ نے بتایا کہ ملک سجاد نے آج سے دو سال قبل مبینہ طور پر ان کی عزت لوٹی اور بعد میں شادی کا جھانسہ دیکر چپ رہنے پر مجبور کیا اور اب جبکہ وہ حاملہ ہیں تو ملک سجاد نہ صرف شادی سے انکار کر رہا ہے بلکہ اب حمل ضائع کرنے کا مشورہ دے رہا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ملک سجاد نے ان کے چھوٹے بھائی سترہ سالہ ہارون کو بھی غائب کر دیا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ اسے قتل کر دیاگیا ہے۔ دریں اثناء ایک مقامی خبررساں ادارے آئی این پی سے بات کرتے ہوئے یونین کونسل خالصہ ون کے سابق ناظم ملک سجاد نے افغان لڑکی فیروزہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ فیملی کا کردار ٹھیک نہیں تھا اور انہوں نے کسی کی عزت نہیں لوٹی ہے۔ | اسی بارے میں اجتماعی زیادتی کے مجرموں کو پھانسی18 July, 2006 | پاکستان پولیس: ملزم بہنوں سے جنسی زیادتی16 June, 2006 | پاکستان مبینہ زیادتی، لڑکی جبراً واپس24 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||