مبینہ زیادتی، لڑکی جبراً واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی اور پاکستانی حکام کی جانب سے مکمل خاموشی کے پس منظر میں ایک اور ایسی پاکستانی لڑکی کو سعودی عرب سے جبراً پاکستان بھیج دیا گیا ہے جس کو ایک سعودی باشندے نے مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا اور مقدمے کی سماعت کے بجائے سات ماہ تک قید میں بھی رکھا گیا۔ اٹھارہ سالہ جڑواں بہنیں اسماء محمود اور مونا محمود سعودی عرب میں اپنی تلخ یادوں کے باوجود سب کچھ بھول بھلا کر واپس مدینہ جانا چاہتی ہیں۔ وجہ صرف یہ ہے کہ پاکستان میں ان کا کوئی عزیزواقارب یا کوئی والی وارث نہیں ہے جبکہ سعودی عرب میں والدین کے ساتھ نو بھائی بہن بھی قیام پذیر ہیں۔ اسماء محمود کے الزام کے مطابق ان کو سعودی کفیل کے بیٹے نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اسماء کے ساتھ سعودی عرب سے نکالی جانے والی اس کی بہن مونا محمود نے اس مبینہ واقعے کے بارے میں بتایا کہ ان کے سعودی کفیل کے بیٹے نے اسماء کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ مونا کے مطابق جب اسماء نے اس کا تذکرہ اپنی بہن سےکیا تو کفیل کے بیٹے نے اسے بھی ڈرایا دھمکایا۔ جب اس واقعے کی اطلاع پولیس کو دی گئی تو کفیل کے بیٹے نے پولیس کو بتایا کہ دونوں بہنوں کا کردار اچھا نہیں ہے اور وہ غیر مردوں کے ساتھ تعلقات رکھتی ہیں جس پر پولیس نے دونوں بہنوں کو پکڑ لیا۔ دونوں بہنوں کے مطابق جیل میں ان کے گھر والوں کو بھی ان سے ملنے نہیں دیا گیا تھا۔ عموماً اس طرح کے الزام عائد کرنے والی غیر سعودی خواتین یہ شکایت بھی کرتی رہی ہیں کہ سعودیوں کے ہاتھوں ایسے واقعات کی رپورٹ درج کرائی جائے تو پولیس مقامی باشندوں کو کھلی چھوٹ دے دیتی ہے اور شکایت کنندہ کو قید میں ڈال دیتی ہے۔
ایسی ہی کچھ شکایت خود اسماء محمود نے بھی کی کہ اس کو تو سات مہینے جیل میں قید رکھا گیا لیکن کفیل کے بیٹے کو نہ پکڑا گیا۔ جب اس نے سعودی پولیس کو اس مبینہ زیادتی کے بارے میں سچ سچ بتایا تو اسے کہا گیا کہ اگر اس نے یہ الزام لگایا تو اسے تین برس کی سزا ہوجائے گی اور پھر پاکستان بھیج دیا جائے گا۔ اسماء محمود کے مطابق اسماء دباؤ کے نتیجے میں اس نے اپنا بیان بدل دیا کہ وہ گھر سے بھاگ گئی تھی جس کے بعد اسے ایک سال کی سزا سنائی گئی اور سات مہینے بعد پاکستان بھیج دیا گیا۔ اسماء اور مونا اور ان کے چھ بھائی اور باقی تین بہنیں سب سعودی عرب میں ہی پیدا ہوئے اور پلے بڑھے ہیں اور ان کےسعودی کفیل سے بھی تعلقات برسوں پرانے ہیں۔ اسماء کے مطابق اس کو بھی میبنہ زیادتی کا نشانہ اس لیے بنایا گیا تاکہ کفیل ان کے گھر پر قبضہ کرسکے۔ دونوں بہنوں کے مطابق مدینہ میں ان کا گھر ہے تو سعودی کفیل کے بیٹےکے نام لیکن ان کے والد کا بنایا ہوا ہے جس پر اب کفیل ان لوگوں کو بے دخل کرکے قابض ہونا چاہتا ہے۔ دونوں بہنیں یہ بھی کہتی ہیں کہ کفیل اور اس کا بیٹا کئی بار ان لوگوں سے گھر خالی کرنے کا مطالبہ بھی کرچکے ہیں۔ دونوں بہنوں کا دعوٰی ہے کہ ان کو سعودی حکام نے سات ماہ تک جیل میں رکھا اور اس کے بعد زبردستی پاکستان روانہ کردیا۔ اسماء اور مونا کے سعودی عرب سے نکال دیے جانے کی اطلاع بھی ان کے اہل خانہ کو اس وقت ملی جب دونوں بہنوں نے پاکستان پہنچ کر اپنے والدین کو مدینہ فون کیا۔ دونوں بہنوں کے مطابق ان کو نئے پاسپورٹ جاری کرنے والے پاکستانی قونصل خانے نے نہ تو ان کے مقدمے میں کوئی دلچسپی لی نہ ہی کسی اور طرح کی کوئی مدد کی۔ اب دونوں بہنیں بے یارو مددگار پاکستان میں پڑے رہنے کے بجائے واپس مدینہ جانا چاہتی ہیں۔ تاہم یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ دونوں بہنوں کی پاکستان میں مدد کرنے والی غیرسرکاری تنظیم انصار برنی ویلفئیر ٹرسٹ کی مہناز انور کہتی ہیں کہ دونوں بہنیں واپس تو جانا چاہتی ہیں لیکن ان کے اقامے کے مسائل ہیں جو اگر حل ہوبھی جائیں تو بھی یہ خدشہ رہے گا کہ واپسی سے دونوں بہنوں کے خاندانوں کے لیے مشکلات کہیں بڑھ نہ جائیں۔ سعودی عرب اور دیگر کئی دولت مند خلیجی ملکوں کے بارے میں یہ شکایات کی جاتی ہیں کہ وہاں خواتین غیر ملکی کارکنوں کو مقامی کفیل جنسی اور دیگر زیادتیوں کا نشانہ بناتے ہیں اور حکام سے شکایت کی صورت میں مختلف الزامات عائد کرکے انہیں ملک بدر کردیا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں پاکستان: عورتوں کا دن 12 فروری کیوں؟12 February, 2006 | پاکستان مختار مائی کی قیادت میں جلوس08 March, 2006 | پاکستان عارف والہ، اغوا شدہ خواتین برآمد13 March, 2006 | پاکستان حدود قوانین کی نظرثانی پر اجلاس 27 March, 2006 | پاکستان ونی، سوارہ: ضلعی کمیٹیوں کا حکم 24 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||