ونی، سوارہ: ضلعی کمیٹیوں کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی عدالت عظمی نے بدلہ صلح کے تحت کمسن لڑکیوں کے رشتے دینے کی قدامت پسندانہ رسموں ونی اور سوارہ کو روکنے کے لیے ملک کے ہر ضلع میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ عدالت نے صوبہ پنجاب کی تحصیل عارف والا میں ایک لڑکی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا شکار بنانے کے بعد پنچایت کے حکم پر تین سالہ بچی کو ونی کرنے پر پنچایت اور زیادتی کے ملزم کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے یہ احکامات ونی اور سوارہ کی رسموں کے بارے میں پنجاب کے ضلع میانوالی کی ونی قرار دی جانے والی دو لڑکیوں اور صوبہ سرحد کی سماجی کارکن ثمر مناللہ کی درخواستوں کی سماعت کے بعد جاری کیے۔ آج ان درخواستوں کی سماعت کے آغاز میں ثمر مناللہ کے وکیل منصور علی نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کے طرف سے اس معاملے کا نوٹس لیے جانے کے بعد سے ان واقعات میں کمی آئی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی کئی علاقوں میں ماں کے پیٹ میں موجود بچوں کو ونی کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے صوبہ پنجاب کے ضلع پاکپتن کی تحصیل عارف والا کی ایک خاتون کی درخواست پڑھی جس میں کہا گیا تھا کہ اس کے ساتھ اس کے تایا زاد بھائی نے جنسی زیادتی کی اور اس کے بعد پنچایت کے حکم پر اس کا نکاح ملزم کے بھائی کے ساتھ جبکہ ملزم کی تین سالہ لڑکی کو اس کے کمسن بھائی کے ساتھ ونی کے طور پر دے دیا گیا۔ سائلہ قریشاں بی بی کے مطابق جب انہوں نے پنچایت کا فیصلہ ماننے سے انکار کیا تو انہوں نے ان کاگھر مسمار کرنے کی دھمکی دی۔
اس درخواست کی سماعت کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ ونی اور سوارہ جیسی رسمیں پورے ملک میں پھیلتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ہر ضلع میں مقامی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سکریٹری پر مشتمل کمیٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹیاں اپنے اپنے اضلاع میں ونی اور سوارہ جیسی رسومات کے خلاف شکایات جمع کریں گی اور ان پر عملدرآمد کے لیے سیشن ججوں سے رجوع کریں گی۔ اگر پولیس اس کمیٹی کی شکایت پر ایکشن نہیں لیتی تو یہ کمیٹی سیشن جج کے توسط سے اعلی عدالتوں میں ان واقعات کی شکایات درج کروائیں گی۔ سپریم کورٹ نے تمام ضلعی پولیس افسران کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ان کمیٹیوں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ معاشرے سے ان قدامت پسند غیر انسانی رسومات کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت اگلے ماہ کی پندرہ تاریخ تک مؤخر کر دی ہے۔ |
اسی بارے میں ونی: سولہ افراد کے خلاف مقدمہ14 March, 2006 | پاکستان ونی کا مقدمہ، سماعت شروع24 February, 2006 | پاکستان انسانی حقوق کمیشن رپورٹ کا اجراء 04 February, 2006 | پاکستان ونی: ’لڑکیوں کوتحفظ فراہم کریں‘16 December, 2005 | پاکستان ’ونی‘ کا حل نکالنے کی کوشش13 December, 2005 | پاکستان ونی: تنسیخ نکاح سماج کو نامنظور08 December, 2005 | پاکستان بھائی کی رہائی، تین بہنیں ’ونی‘06 December, 2005 | پاکستان میانوالی:’ونی کے واقعات میں اضافہ‘28 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||