اجتماعی زیادتی کے مجرموں کو پھانسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کے شہر لاہور کی سینٹرل جیل میں اجتماعی زیادتی کے تین ملزموں کو منگل کے روز پھانسی دیدی گئی۔ پنجاب میں تین ہفتوں سے بھی کم وقت میں کم ازکم اٹھارہ افراد کو تختہ دار پر لٹکایا جاچکا ہے۔ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اشرف نے بتایا کہ اعجاز احمد، شاہد اور محمداکرم کی سزائے موت پر علی الصبح عملدرآمد کر دیاگیاجس کے بعد ان کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ صبح جب پھانسی دیئے جانے کا وقت تھا۔تینوں کے ورثا کوٹ لکھپت جیل کے باہر موجود تھے اور مسلسل نماز پڑھ رہے تھے اور تلاوت کر رہے تھے تاہم جب سٹریچر اندر لے جائے گئے تو انہیں ان کی موت کا یقین ہوگیا اور وہ رونے لگے۔ جیل حکام نے بتایا کہ تینوں ملزموں پر الزام ہے کہ انہوں نے کوئی چھ سال پہلے ضلع شیخوپورہ (ضلع ننکانہ ) میں ایک خاتون ارشاد بی بی کےگھر میں ڈکیتی کی واردات کے دوران اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور نقدی زیورات اور دیگر سامان لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تینوں کو سزائے موت سنائی جو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھی اور صدر پاکستان نے بھی ان کی اپیل مسترد کردی تھی۔ پاکستان کا شمار امریکہ اور ایران اور سعودی عرب سمیت ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں سزائے موت دی جاتی ہے۔
اس سے قبل بارہ جولائی کو سیالکوٹ جیل میں اجتماعی زیادتی کے پانچ ملزمان کو سزائے موت دی گئی۔ چار جولائی کوگوجرانوالہ میں قتل کے تین ملزم پھانسی چڑھائے گئے اور انتیس جون کو فیصل آباد میں اجتماعی زیادتی کے چار ملزم تختہ دار پر لٹک گئے۔ پاکستان میں بے نظیر بھٹو کے پہلے دور سے لیکر اب تک بڑی تعداد میں ماورائے عدالت ہلاکتیں کی گئیں اور بڑی تعداد میں ایسے افراد کو مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا جا چکا ہے جن پر مبینہ گینگ ریپ کے الزامات تھے تاہم شہری حلقے ان ہلاکتوں کی پرزور مذمت کرتے رہے اور مبینہ پولیس مقابلوں کی بجائے ملزموں کو عدالت سے سزا دلوانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بعض تنظیمیں پاکستان میں سزائےموت کو ہی کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کرتی ہیں اور موت کی سزا کو ایک وحشیانہ اقدام قرار دیتی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنینشل کے مطابق صرف سن دوہزار پانچ میں پاکستان میں دو سو اکتالیس افراد کو سزائے موت دی جاچکی ہے۔ | اسی بارے میں سیالکوٹ میں پانچ افراد کو پھانسی12 July, 2006 | پاکستان گوجرانوالہ: تین افراد کو پھانسی04 July, 2006 | پاکستان فیصل آباد میں چار افراد کو پھانسی29 June, 2006 | پاکستان معیز کو بچوں نے پھانسی سے بچالیا07 June, 2006 | پاکستان صدرمشرف پرحملہ: فوجی کو پھانسی20 August, 2005 | پاکستان جنسی زیادتی کے3 مجرموں کو پھانسی23 December, 2004 | پاکستان زنا بالجبر:دو مجرموں کو پھانسی30 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||