سیالکوٹ میں پانچ افراد کو پھانسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک عورت سے اجتماعی زیادتی کے الزام میں سزا پانے والے پانچ افراد کو بدھ کی صبح سیالکوٹ ضلعی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ عبدالرزاق نیازی نے بتایا کہ سیالکوٹ جیل کی تاریخ میں پہلی بار پانچ افراد ک ایک ہی دن پھانسی دی گئی ہے۔ گزشتہ بارہ دنوں میں پنجاب میں ایک ساتھ کئی افراد کو پھانسی دیئےجانے کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ یوں بارہ افراد پھانسی پاچکے ہیں۔ ڈسکہ کی رہائشی اور اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی ثریا بی بی نے منگل کے روز لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ان مجرموں کو معاف کرنے کی درخواست کی تھی جو انہوں نے مسترد کردی۔ مدعیہ کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے بیان دیا تھا کہ اجتماعی زیادتی کا جرم قابل راضی نامہ نہیں اس لیئے ان کی سزا روکی نہیں جاسکتی۔ پھانسی پانے والوں میں ڈسکہ کے رہنے والے پانچ دوست مشتاق پپو، شہزاد مسیح، محمد یوسف، عبدالجبار اور افتخار احمد شامل ہیں۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کے مطابق ان کی عمریں تئیس سے پینتیس سال کے درمیان تھیں۔ پھانسی پانے والے تین افراد عبدالجبار، مشتاق اور یوسف شادی شدہ تھے۔ جیل اہلکار کے مطابق پہلے تین افراد کو تختہ دار پر لٹکا کر آدھے گھنٹہ تک ان کو پھندے سے لٹکنے دیا گیا اور ان کی لاشوں کو ہٹا کر دو مجرموں کے ساتھ یہی عمل دہرایا گیا۔
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل نے بتایا کہ پھانسی دینے والے جلاد کا نام صادق مسیح ہے جو بیس سال سے سیالکوٹ جیل میں پھانسی دینے کا کام کررہا ہے۔ جیل حکام کے مطابق پھانسی پانے والے افراد کی لاشیں ان کے ورثا کے سپرد کردی گئی ہیں۔ ستمبر انیس سو ستانوے میں ثریا بی بی نے ان افراد کے خلاف اجتماعی زیادتی کے الزام میں مقدمہ درج کرایا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے انہیں سزائے موت دینے کا حکم سنایا جسے لاہور ہائی کورٹ کی ایک ڈویژن بینچ اور سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے ان کی رحم کی اپیل مسترد کردی تھی۔ پانچ دن پہلے مدعیہ نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پھانسی کی سزا پانے والے وہ لوگ نہیں ہیں جنہوں نے اس سے اجتماعی زیادتی کی تھی اور یہ لوگ بے گناہ ہیں اس لیئے انہیں سزائے موت نہ دی جائے۔ انتیس جون کو فیصل آباد جیل میں بھی اجتماعی زیادتی کے جرم میں سزا پانے والے چار دوستوں کو تختہ دار پر لٹکایاگیا تھا۔ ایک ہفتہ پہلے چار جولائی کو گوجرانوالہ میں تین افراد کو قتل کے الزام میں پھانسی دی گئی تھی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سنہ دو ہزار پانچ میں پاکستان میں دو سو اکتالیس افراد کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی جن میں سے زیادہ تر قتل کے مجرم تھے۔ ان میں سے بتیس افراد کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ | اسی بارے میں پانچ افراد کو سزائے موت، مدعی منحرف06 July, 2006 | پاکستان بچوں نے پھانسی سے بچا لیا07 June, 2006 | پاکستان سزائے موت ایک ماہ کے لیئے مؤخر23 May, 2006 | پاکستان پولیس: ملزم بہنوں سے جنسی زیادتی16 June, 2006 | پاکستان گوجرانوالہ: تین افراد کو پھانسی04 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||