’پاکستان کا حقیقی تعاون درکار ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانسیسی وزیرِ دفاع نے اپنے دو روزہ دورۂ افغانستان کے اختتام پر کہا ہے کہ افعانستان میں ہونے والے متعدد حملوں میں پاکستان سے آنے والے طالبان کا ہاتھ ہے۔ کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیل ایلیٹ میری کا کہنا تھا کہ ’ہمیں پاکستان سے حقیقی تعاون کی ضرورت ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ ان کے لیئے مشکل کام ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’پاک افغان سرحد بہت دشوارگزار علاقہ ہے اور ہم پاکستان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس علاقے پر کنٹرول کے لیئے مزید کوششیں کرے۔ ہمارے خیال میں بہت سے طالبان جنگجو اس علاقے سے افغانستان آ رہے ہیں‘۔ پاکستان یہ کہتا رہا ہے کہ وہ افغان سرحد پر دراندازی روکنے اور گشت بڑھانے کے لیئے ہر ممکن کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیر سے جنوبی افغانستان کی کمانڈ سنبھالنے والی نیٹو افواج کو پاکستان سے مزید بہتر تعاون درکار ہوگا۔ اٹھارہ ہزار نیٹو فوجی پیر سے جنوبی افغانستان کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیں گے۔ اس سے قبل یہ علاقہ امریکہ کی زیرِ سربراہی اتحادی فوج کی نگرانی میں تھا اور گزشتہ چند مہینوں میں اس علاقے میں آٹھ ہزار کے قریب برطانوی، کینیڈین اور ولندیزی فوجی تعینات کیئے گئے تھے۔ | اسی بارے میں طالبان کے کیمپ بند کریں: کرزئی02 July, 2006 | پاکستان انٹیلیجنس کے تبادلے پر اتفاق06 June, 2006 | پاکستان الزامات بے بنیاد ہیں: پاکستان19 May, 2006 | پاکستان طلباء کو اکسایا جاتا ہے: کرزئی18 May, 2006 | پاکستان ’اسامہ زندہ ہیں تو افغانستان میں ہیں‘15 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||