فوج کے تربیتی مرکز پر حملہ: 35 فوجی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ملاکنڈ میں درگئی کے علاقے میں ایک فوجی تربیتی مرکز میں ’خود کش‘ حملے میں پینتیس فوجی ہلاک جبکہ بیس زخمی ہوگئے ہیں۔ چند زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے مطابق یہ دہشت گردی کی کارروائی تھی جوکہ بظاہر خودکش حملہ معلوم ہوتا ہے۔ خدشہ ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ پنجاب ریجمنٹ کے اس مرکز میں کیا ہوا اسے جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن سرکاری ذرائع کے مطابق ایک چادر لپیٹے شخص گاڑی سے اترا اور میدان میں داخل ہوکر دھماکہ کر دیا۔ مالاکنڈ کی سرحد قبائلی علاقے باجوڑ سے ملتی ہیں جہاں گزشتہ ہفتے پاکستان فوج نے ایک مدرسے پر بمباری میں اسی افراد کو ہلاک کیا تھا۔ درگئی کے ایک مقامی صحافی ہدایت اللہ نے بتایا کہ عینی شاہدین نے ایک شخص کو سندھی ٹوپی پہنے ہوئے میدان میں جاری ایک کلاس میں گھستے دیکھا جس کے بعد دھماکہ ہوا۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ دھماکہ صبح ساڑھے آٹھ بجے فوجی تربیت کے مرکز کے باہر سڑک کنارے بڑے میدان میں ہوا جہاں زیر تربیت فوجی پریڈ کرتے ہیں اور ان کی کلاسیں ہوتی ہیں۔ یہ مرکز مردان کی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔ سڑک کے کنارے اس فوجی مرکز کے دو میدان ہیں۔ دھماکہ گراونڈ نمبر ایک میں ہوا جہاں تقریبًا سوا سو فوجی زیر تربیت تھے۔ اس میدان کے اردگرد کوئی دیوار نہیں ہے جس سے سڑک سے اس میں زیر تربیت فوجیوں کو باآسانی دیکھا جاسکتا ہے۔ ملاکنڈ میں ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کی ٹانگیں بچی ہیں جنہیں فوجی کیمپ شناخت کے لیئے لے جایا گیا ہے۔ تاہم حکام ابھی اس بارے میں کچھ بتا نہیں رہے ہیں۔ مقامی حکام تحقیقات کے لیئے واقع کے مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ زخمیوں کو زیر تعیمر درگئی ہسپتال اور مرادن سی ایم ایچ منتقل کیا گیا ہے۔ خون دینے والے بھی بڑی تعداد میں وہاں موجود ہیں۔ ایک دوسرے صحافی عبداللہ عابد کے مطابق فوجی حکام نے علاقے اور ہسپتال کو گھیرے میں لے لیا ہے اور کسی کو آنے جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔ ہدایت اللہ کا کہنا تھا کہ وہ دھماکے کے وقت مرکز کے قریب ایک سٹال پر اخبارات دیکھ رہے تھے کہ زوردار دھماکہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں انہیں خیال ہوا کہ یہ کسی گاڑی کا ٹائر پھٹا ہے لیکن لوگوں کی بھاگ دوڑ دیکھ کر وہ بھی اس جانب بھاگے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد میدان میں زیر تربیت فوجیوں کی ٹوپیاں اور جوتے جگہ جگہ بکھرے ہوئے تھے۔ ملاکنڈ سے متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی بختیار مانی کا کہنا تھا کہ یہ ایک قومی المیہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سب کو اس واقعے پر افسوس ہے کیونکہ مالاکنڈ کافی پرامن علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی باہر سے آئے کسی شخص نے کی ہوگی۔ |
اسی بارے میں 7 فوجی، 14 شدت پسند ہلاک: فوج10 January, 2006 | پاکستان میران شاہ: سات فوجی ہلاک10 January, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان: فائرنگ سے 4 زخمی15 January, 2006 | پاکستان فوجی آپریشن کے خلاف مظاہرے23 January, 2006 | پاکستان بلوچستان میں جھڑپیں اور دھماکے20 January, 2006 | پاکستان بلوچستان: ایف سی کے دو اہلکار ہلاک11 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||