میران شاہ: سات فوجی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر اور منگل کی درمیانی شب شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے نزدیک فرنٹیئر کانسٹیبلری کی ایک حفاظتی چوکی پر نامعلوم شدت پسندوں نے راکٹوں سے حملہ کر کے سات فوجی اہلکاروں کو ہلاک جبکہ دو کو زخمی کر دیا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق میران شاہ کے نزدیک سربند چیک پوسٹ پر گزشتہ شب ساڑھے بارہ بجے حملہ کیا گیا اور حملہ آور راکٹ پھینکنے کے بعد فرار ہو گئے۔ فوج کے ترجمان کے مطابق یہ ابھی واضح نہیں ہو سکا کہ یہ حملہ آور غیر ملکی تھے یا مقامی۔ فوج کے ترجمان نے یہ تو بتانے سے گریز کیا کہ آیا علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف اس حملے کے بعد فوجی کاروائی کی جائے گی تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا کہ ان شدت پسندوں کی بیخ کنی کے لیے فوجی اور سیاسی دونوں ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ’وزیرستان میں اس قسم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور اس علاقے سے غیر ملکیوں کو نکالا جائے گا‘۔ شمالی وزیرستان میں تین روز قبل بھی ایک چوکی پر حملہ کر کے آٹھ سپاہیوں کو ہلاک کیا گیا تھا جبکہ اسی روز جنوبی وزیرستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک سرکردہ اور حکومت کے حامی قبائلی سردار سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پیر کو حکومت نے مقامی قبائلیوں کو ان سپاہیوں پر حملہ کرنے والوں کو حکومت کے حوالے کرنے کی ڈیڈلائن میں ایک ہفتے کی توسیع کی بھی تھی۔ ادھر منگل کو پاکستانی اخبار ’دی نیوز‘ نے خبر دی ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے قبائلی علاقوں میں ہونے والی ہلاکتوں کا سخت نوٹس لیا ہے اور ایک اعلٰی سطح کی میٹنگ میں ہدایات جاری کی ہیں کہ قبائلی علاقوں میں صورتحال کو ہاتھ سے نہ نکلنے دیا جائے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||