ڈیڈ لائن ختم، مذاکرات شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکومت اور خسوخیل قبیلے کے عمائدین کے درمیان میران شاہ میں مذاکرات جاری ہیں تاہم حکام نے تادیبی کارروائی کے طور پر میر علی بازار بند کر دیا ہے اور گاڑیوں کی آمد و رفت پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔ میرعلی کے مضافات میں خسوخیل گاؤں میں عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ دن بارہ بجے حکومت کی جانب سے قبائلیوں کو مہلت کے خاتمے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد دو گن شپ ہیلی کاپٹروں نے علاقے کا چکر لگایا تاہم کوئی حملہ نہیں کیا۔ حکام نے خسوخیل اور میر علی کے درمیان سڑک بھی بند کر رکھی ہے اور علاقے میں دو افراد سے زائد کے جمع ہونے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ ذرائع کے مطابق ہفتے کی دوپہر ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ سے چار افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے ایک بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ تاہم اس خبر کی سرکاری ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ شمالی وزیرستان میں فوج کی جانب سے مقامی قبائل کو آٹھ فوجیوں کی ہلاکت میں ملوث افراد حوالے کرنے کے لئے کل چوبیس گھنٹے کی مہلت دی تھی جو آج ختم ہوچکی ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق قبائلی عمائدین حکومت سے ملوث افراد کی نشاندہی کے لئے مزید وقت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ہفتے کے روز تشدد کے مختلف واقعات میں آٹھ فوجیوں سمیت بائیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ کئی مقامات پر کشیدگی ضرور پائی جاتی ہے۔ کئی قبائلیوں نے بی بی سی سے میران شاہ سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے سرحدی قصبے سیدگئی میں ہلاکتوں پر احتجاج کیا ہے۔ ایک شخص نے اپنا نام اقبال خان بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے سرحد پار خوست سے آئے امریکی فوجیوں کی کارروائی دیکھی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ اس قسم کے واقعات روکنے میں ناکام ہوچکی ہے تو قبائلیوں کو اجازت دیں وہ خود اپنی سرزمین کا دفاع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ نشانہ بنائے جانے والے مکان میں کوئی غیرملکی نہیں تھا اور سب مقامی لوگ تھے۔ سیدگئی کے واقعے پر حکومت اور فوج نے مسلسل چپ سادھی ہوئی ہے۔ ہفتے کے روز فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||