BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 November, 2006, 23:59 GMT 04:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خود کش حملے میں 42 فوجی ہلاک

حملے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے
ملاکنڈ میں درگئی کے علاقے میں ایک فوجی تربیتی مرکز پر ’خود کش حملے‘ میں 42 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے مطابق یہ دہشت گردی کی کارروائی تھی جوکہ بظاہر خودکش حملہ معلوم ہوتا ہے۔

خدشہ ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی نے بدھ کی شام نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 42 ہوگئی ہے۔

مالاکنڈ کی سرحد قبائلی علاقے باجوڑ سے ملتی ہیں جہاں گزشتہ ہفتے پاکستان فوج نے ایک مدرسے پر بمباری کر کے اسی افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ بدھ کو حملے کی زد میں آنے والا فوجی تربیتی مرکز اس مدرسے سے تقریباً تیس میل جنوب مشرق میں واقع ہے جس پر فوج نے بمباری کی تھی۔

وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ کے مطابق فوجی مرکز پر حملہ باجوڑ کا ردِ عمل ہو سکتا ہے

افغان سرحد کے قریب طالبان کے حمایتی شدت پسندوں اور القاعدہ کے ارکان کے خلاف پاک فوج کی کارروائیوں کے آغاز کے بعد، فوج کے خلاف ہونے والا یہ سب سے بڑا حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مدرسے پر پاکستانی فوج کی کارروائی کے بعد سے قبائلی کھلے عام فوج کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکیاں دے رہے تھے۔

درگئی کو تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی کا گڑھ کہا جاتا ہے۔ گزشتہ ہفتے مدرسے پر فوجی بمباری سے ہلاک ہونے والے افراد میں مدرسے کے سربراہ بھی مارے گئے تھے اور ان کا تعلق بھی تحریک نفاذِ شریعتِ محمدی سے تھا۔

وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ درگئی خود کش حملے کا باجوڑ واقعہ سے تعلق ہے اور اس بارے میں سیکورٹی ایجنسیز تحقیقات کریں گی۔انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں خود کش بمباروں کی تربیت ہورہی تھی اور انہیں لگتا ہے کہ آج کا واقعہ باجوڑ کا رد عمل بھی ہوسکتا ہے۔

درگئی کے مقامی لوگوں کے مطابق یہ دھماکہ صبح ساڑھے آٹھ بجے فوجی تربیت کے مرکز کے باہر سڑک کے کنارے بڑے میدان میں ہوا جہاں زیر تربیت فوجی پریڈ کرتے ہیں اور ان کی کلاسیں ہوتی ہیں۔ یہ مرکز مردان کی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔

سڑک کے کنارے اس فوجی مرکز کے دو گراؤنڈ ہیں۔ ’خودکش حملہ‘ گراونڈ نمبر ایک میں ہوا جہاں تقریبًا ایک سو سے زیادہ فوجی زیر تربیت تھے۔ اس میدان کے اردگرد کوئی دیوار نہیں ہے جس کی وجہ سے سڑک سے ان زیرِ تربیت فوجیوں کو باآسانی دیکھا جاسکتا ہے۔

خود کش حملہ: اہم نکات
دھماکے کے بعد گراؤنڈ میں زیرِ تربیت فوجیوں کی ٹوپیاں اور جوتے جگہ جگہ بکھرے ہوئے تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ایک شخص جس نے چادر اوڑھ رکھی تھی گاڑی سے اترا اور گراؤنڈ میں داخل ہوکر اس نے دھماکہ کر دیا۔ خود کش حملہ آور کی صرف ٹانگیں بچی ہیں جنہیں شناخت کے لیئے فوجی کیمپ لے جایا گیا ہے

درگئی کے ایک مقامی صحافی ہدایت اللہ نے بتایا کہ عینی شاہدین نے ایک شخص کوگراؤنڈ میں جاری ایک کلاس میں گھستے ہوئے دیکھا جس کے بعد دھماکہ ہوگیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ایک شخص جس نے چادر اوڑھ رکھی تھی گاڑی سے اترا اور گراؤنڈ میں داخل ہوکر اس نے دھماکہ کر دیا۔

ایک عینی شاہد اورنگزیب نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے دھماکے کے چند منٹ بعد دیکھا کہ تربیتی مرکز میں فوجی، ہلاک ہونے والے فوجیوں کے جسم کے ادھر ادھر بکھرے ہوئے ٹکڑے اکٹھے کر رہے تھے۔ ’وہاں زخمی مر رہے تھے۔ ان کے جوتے اور کپڑے دور دور بکھرے ہوئے تھے۔‘

ملاکنڈ میں ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کی صرف ٹانگیں بچی ہیں جنہیں شناخت کے لیئے فوجی کیمپ لے جایا گیا ہے۔ تاہم حکام ابھی اس بارے میں تفصیل نہیں بتا رہے ہیں۔

 عینی شاہدین نے ایک شخص کوگراؤنڈ میں جاری ایک کلاس میں گھستے ہوئے دیکھا جس کے بعد دھماکہ ہوگیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ایک شخص جس نے چادر اوڑھ رکھی تھی گاڑی سے اترا اور گراؤنڈ میں داخل ہوکر اس نے دھماکہ کر دیا
مقامی صحافی ہدایت اللہ

ہدایت اللہ کا کہنا تھا کہ وہ فوجی مرکز کے قریب ایک سٹال پر اخبارات دیکھ رہے تھے کہ زوردار دھماکہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں ان کا خیال تھا کہ کسی گاڑی کا ٹائر پھٹا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد گراؤنڈ میں زیرِ تربیت فوجیوں کی ٹوپیاں اور جوتے جگہ جگہ بکھرے ہوئے تھے۔

مقامی حکام تحقیقات کے لیئے حملے کے مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ زخمیوں کو زیر تعیمر درگئی ہسپتال اور مرادن سی ایم ایچ منتقل کیا گیا ہے۔ جہاں خون دینے والے بھی بڑی تعداد میں وہاں موجود ہیں۔

ایک دوسرے صحافی عبداللہ عابد کے مطابق فوجی حکام نے علاقے اور ہسپتال کو گھیرے میں لے لیا ہے اور کسی کو آنے جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔

ملاکنڈ سے متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی بختیار مانی کا کہنا تھا کہ یہ ایک قومی المیہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سب کو اس واقعہ پر افسوس ہے کیونکہ مالاکنڈ کافی پرامن علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی باہر سے آئے کسی شخص نے کی ہوگی۔

خودکش حملے کیوں؟
پاکستان میں خود کش حملوں کا بڑھتا رجحان
اسی بارے میں
7 فوجی، 14 شدت پسند ہلاک: فوج
10 January, 2006 | پاکستان
میران شاہ: سات فوجی ہلاک
10 January, 2006 | پاکستان
فوجی آپریشن کے خلاف مظاہرے
23 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد