کشمیر بم دھماکہ، پانچ بچیاں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول پر بم پھٹنے سے پانچ بچیاں ہلاک ہوگئیں ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تین بہنیں تھیں ۔ ہلاکتوں کا یہ واقعہ گزشتہ شام مظفرآباد کے شمال مشرق میں ایک سو نوے کلومیڑ دور وادی نیلم میں کیل کے علاقے میں پیش آیا۔ ہلاک والوں کی عمریں تین سے پانچ سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں اور ان میں تین بہنیں بھی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ بچیاں ریت میں کھیل رہی تھیں کہ اچانک بم پھٹ گیا جس کی وجہ سے یہ ہلاکتیں ہوئیں ۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ریت مقامی لوگوں نے دریائے نیلم کے کنارے سے نکال کر تعمیرات کے لیے وہاں جمع کر رکھی تھی ۔
پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ یہ کھلونا بم ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نومبر سن دوہزار تین میں کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول پر ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان فائر بندی سے قبل ہندوستان کی فوج نے کافی تعداد میں لائن آف کنڑول کے پار سے کھلونا بم پھینکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں اب بھی بہت سارے ایسے بم ہوں گے جو پھٹے بغیر رہ گئے اور بعض اوقات ان بموں کے پھٹنے سے لوگ ہلاک یا زخمی ہوجاتے ہیں۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سن انیس سو اٹھاسی میں مسلح تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول پر ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان گولہ باری شروع ہوئی تھی اور تین سال سے گولہ باری کا یہ سلسلہ رکا ہوا ہے ۔ لیکن لائن آف کنڑول پر کھلونا بم بارودی سرنگ کے پھٹنے کے واقعات میں لوگوں کی ہلاکتوں یا زخمی ہونے کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔ | اسی بارے میں ’بگلیہار:بھارتی پریس کی خبر غلط‘21 October, 2006 | پاکستان وادی نیلم: حادثے میں 7 ہلاک 14 September, 2006 | پاکستان مظفر آباد: لاشوں کی تعداد 18 ہو گئی14 June, 2006 | پاکستان نیلم وادی کے لوگ ناراض ہیں 22 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||