BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 October, 2006, 13:19 GMT 18:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بگلیہار:بھارتی پریس کی خبر غلط‘

بگلیہار ڈیم
پاکستانی ترجمان کےمطابق بگلیہار ڈیم پرعالمی بینک کی رپورٹ عبوری ہے
پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بھارت کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی بگلیہار ڈیم سے متعلق خبروں کو بے بنیاد بتایا ہے۔

ان خبروں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عالمی بینک کے ماہرین نےمتنازع بگلیہار ڈیم کے بارے میں بھارتی موقف کی تائید کردی ہے۔

سنیچر کوبی بی سی کے سوال پر انہوں نےکہا کہ بگلیہار ڈیم کےمتعلق عالمی ماہرین نے عبوری رپورٹ تیار کی ہے جو پاکستان اور بھارت کو رازداری میں رکھنے کی شرط پر فراہم کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ موصول ہونے والی رپورٹ کے بارے میں کچھ نہیں بتانا چاہتیں۔ تاہم انہوں نے بھارت کے میڈیا میں اس کے بارے میں خبروں کی سختی سےتردید ہے۔

واضح رہے کہ بعض بھارتی ذرائع ابلاغ نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر حکومت کے ذرائع کے حوالے سے خبرشائع کی ہے کہ بگلیہار ڈیم کے متعلق عالمی بینک کے نامزد کردہ ماہرین نے پاکستان کےموقف کومسترد کرتے ہوئے بھارت کےموقف کی حمایت کردی ہے۔

تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ ابھی عالمی بینک کے نامزد کردہ غیر جانبدار ماہر کے ساتھ فریقین کی آئندہ ماہ امریکہ میں ملاقات ہونی ہے جس کے بعد ہی حتمی فیصلہ ہوگا۔

یاد رہے کہ جب بھارت نے دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم کی متنازعہ تعمیر کا کام شروع کیا تو پاکستان نےاس پر اعتراضات اٹھایا کہ اس کی تعمیر انیس سو ساٹھ میں ہونے والے’انڈس بیسن ٹریٹی، کی خلاف ورزی ہے۔

 پاکستان کا خیال ہے کہ بھارت کی طرف سے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کی طرف سے بہنے والے دریائے نیلم کا پانی 27 فیصد تک کم ہوجائیگا اور ایک ارب ڈالر سے زائد کی لاگت سے تعمیر ہونے والے مجوزہ نیلم جیھلم پاور پراجیکٹ کو شدید نقصان پہنچےگا۔

پاکستان نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ بگلیہار ڈیم کی تعمیر سے بھارت پاکستان کے حصے کا پانی روک دے گا۔ جبکہ بھارت ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا رہا ہے کہ وہ اپنے حصے کا پانی ذخیرہ کرنے کے لیے یہ منصوبہ مکمل کرنا چاہتا ہے۔

دونوں ممالک میں دو طرفہ سطح پر بات چیت کے کئی مرحلوں میں جب معاملہ طے نہیں ہوسکا تو پاکستان نےعالمی بینک سے رجوع کیا تھا۔ عالمی بینک نے برازیل ، سویئٹرزلینڈ اور آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والےتین آبی ماہرین کو تصفیے کے لیئے نامزد کر رکھا ہے۔

دونوں ممالک میں پانی کے معاملہ پر تنازعہ کی صورت میں انیس سو ساٹھ کے معاہدے کے اعتبار سے ثالث عالمی بینک ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ان سے رجوع کیا۔

بھارت نے دریائے جھیلم پر بھی کشن گنگا ڈیم کی تعمیرشروع کی تھی جس پر بھی پاکستان نےاعتراض کر رکھا ہے اور فریقین میں تاحال اختلاف رائے موجود ہے۔
پاکستان کا خیال ہے کہ بھارت کی طرف سے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کی طرف سے بہنے والے دریائے نیلم کا پانی 27 فیصد تک کم ہوجائیگا اور ایک ارب ڈالر سے زائد کی لاگت سے تعمیر ہونے والے مجوزہ نیلم جیھلم پاور پراجیکٹ کو شدید نقصان پہنچےگا۔

پاکستان کی طرف سے تعمیر کیے جانے والےاس منصوبے کی پیداواری صلاحیت 969 میگاواٹ ہوگی۔ پاکستان چند ہفتوں میں اس کی تعمیر کے لیئے ٹینڈر جاری کرےگا۔ معاہدے کی رو سے بھارت کو دریائے جھیلم کے ایک نالے ماود کپتی کا رخ بدلنے کا اختیار نہیں ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ اس نالے کا رخ موڑ کردریائے نیلم سے ؤولر بیراج کے ذریعے دریائے جھیلم کی طرف بدل دیا جائے۔

1960 میں طے پانےوالے سندھ طاس معاہدے کے مطابق مغربی دریاؤں جھیلم اور چناب پر پاکستان کا حق ہے۔ جبکہ مشرقی دریاؤں ، راوی ، چناب اور بیاس بھارت کی ملکیت ہیں۔ گزشتہ 45 برسوں میں بگلیہار ڈیم کا پہلا تنازعہ ہے جس میں عالمی بینک سے رجوع کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد