| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پانی پربات،پاکستانی وفدکشمیرمیں
دریائے چناب پر زیرِ تعمیر بھارت کے ایک متنازعہ ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے معائنے کے لیے تین پاکستانی اہلکار بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر پہنچ گئے ہیں۔ یہ معائنہ انیس سو ساٹھ میں چھ بڑے دریاؤں سے آنے والے پانی کے مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت ہو رہا ہے ۔ دونوں ملک ان دریاؤں سے آنے والے پانی کو استعمال کرتے ہیں۔ معاہدے کے مطابق چھ میں سے تین دریاؤں کا پانی جن میں سندھ، جہلم اور چناب شامل ہیں، پاکستان کے زیرِ استعمال ہے۔ بھارت چند پابندیوں کے تحت ان دریاؤں کا پانی استعمال یا ذخیرہ کر سکتا ہے۔ پاکستان انیس سو ننانوے سے بھارت سے یہ درخواست کر رہا ہے کہ وہ پاکستانی ماہرین کو اجازت دے کہ وہ بگلیہار ہائیڈرو پاور پلانٹ کے ڈیموں سے ذخیرہ کیے جانے والے پانی کی مقدار کو طے کر سکیں۔ جموں سے بینو جوشی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے انڈس واٹر کے کمشنر سید جماعت علی نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ پاکستانی اہلکار زیرِ تعمیر بگلیہار منصوبے کی اونچائی کی پیمائش کریں گے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ بھارت کتنا پانی سٹور کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس معائنے کی درخواست انیس سو ننانوے میں کی گئی تھی لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ پاکستان ٹیم آج کسی وقت بگلیہار سے دہلی پہنچے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||