BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 October, 2003, 06:37 GMT 11:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پانی پربات،پاکستانی وفدکشمیرمیں
پاکستان اور بھارت کے باہمی وفود تعلقات استوار کرنےمیں کوشاں ہیں
پاکستان اور بھارت کے تجارتی وفود اور دانشور آج کل دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں

دریائے چناب پر زیرِ تعمیر بھارت کے ایک متنازعہ ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے معائنے کے لیے تین پاکستانی اہلکار بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر پہنچ گئے ہیں۔

یہ معائنہ انیس سو ساٹھ میں چھ بڑے دریاؤں سے آنے والے پانی کے مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت ہو رہا ہے ۔ دونوں ملک ان دریاؤں سے آنے والے پانی کو استعمال کرتے ہیں۔

معاہدے کے مطابق چھ میں سے تین دریاؤں کا پانی جن میں سندھ، جہلم اور چناب شامل ہیں، پاکستان کے زیرِ استعمال ہے۔ بھارت چند پابندیوں کے تحت ان دریاؤں کا پانی استعمال یا ذخیرہ کر سکتا ہے۔

پاکستان انیس سو ننانوے سے بھارت سے یہ درخواست کر رہا ہے کہ وہ پاکستانی ماہرین کو اجازت دے کہ وہ بگلیہار ہائیڈرو پاور پلانٹ کے ڈیموں سے ذخیرہ کیے جانے والے پانی کی مقدار کو طے کر سکیں۔

جموں سے بینو جوشی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے انڈس واٹر کے کمشنر سید جماعت علی نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ پاکستانی اہلکار زیرِ تعمیر بگلیہار منصوبے کی اونچائی کی پیمائش کریں گے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ بھارت کتنا پانی سٹور کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس معائنے کی درخواست انیس سو ننانوے میں کی گئی تھی لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

پاکستان ٹیم آج کسی وقت بگلیہار سے دہلی پہنچے گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد