طالبان: مذاکرات کی دعوت مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے اسلامی ملیشیاء کو مذاکرات کی دعوت دینے اور افغان پارلیمنٹ سے ملا عمر کو عام معافی کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے طالبان نے کہا ہے کہ افغان حکومت امریکیوں کی پیدا کردہ ہے لہذا اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ طالبان کے ترجمان قاری یوسف نے اتوار کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے بتایا کہ کابل میں قائم حکومت کی کوئی حیثیت ہی نہیں کہ وہ ایک مجاہد اور آزاد افغان کو معافی کی پیش کش کرے بلکہ جو لوگ افغانستان میں اس وقت اقتدار میں ہیں انہوں نے ملک و قوم سے غداری کی ہے اور افغانستان کو امریکیوں کے حوالے کیا ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے ایک ہفتہ قبل طالبان کو امن مذاکرات کی پیشکش کی تھی جبکہ اس کے چند روز بعد افغان پارلیمنٹ نے بھی طالبان کے امیر ملا عمر اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کو عام معافی دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ قاری یوسف کا کہنا تھا’ کرزئی اور دیگر حکومتی عہدیدار تو خود افغان قوم کے مجرم ہیں کیونکہ انہی لوگوں نے غیر ملکی افواج کو دعوت دی اور معصوم افغانیوں پر بمباری کی۔ وہ دوسروں کو کیا معافی دیں گے، انہیں تو خود افغان عوام سے اپنے لیے معافی طلب کرنی چاہیے‘۔ ترجمان نے افغان پارلمینٹ کی طرف سے عام معافی کے بارے میں واضح کیا کہ یہ معافی تو ان کمانڈروں کے لیے طلب کی گئی ہے جن کے ہاتھ بے گناہ شہریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں جبکہ ان کے مطابق ’امیر المومنین‘ ملا محمد عمر تو کبھی معصوم شہریوں کو قتل کرنے جیسے کسی الزام میں ملوث ہی نہیں ہیں بلکہ انہوں نے تو ہمیشہ اسلام کی سربلندی اور ’افغان ملت‘ کی آزادی کے لیے ’جہاد‘ کیا ہے۔ واضح رہے کہ افغان صدر کی جانب سے طالبان کو امن مذاکرات کی پیش کش ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے کہ جب افغانستان میں دو ہزار ایک میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد گزشتہ سال پہلی دفعہ بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ان جھڑپوں میں چار ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوئے جن میں ایک سو ستر غیر ملکی فوجی بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں طالبان: نیٹو کی نئی حکمت عملی10 January, 2007 | آس پاس نیٹو حملہ میں ’تیس طالبان ہلاک‘31 January, 2007 | آس پاس کابل میں طالبان کا خوف 27 September, 2006 | آس پاس طالبان کا قبضہ اور حکومتی تردید02 February, 2007 | آس پاس طالبان سے قبضہ چھڑانے کی تیاری03 February, 2007 | آس پاس طالبان کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ04 February, 2007 | آس پاس ہلمند میں ہلاکتیں کم ہوئیں: طالبان06 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||