BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 February, 2007, 15:29 GMT 20:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان: مذاکرات کی دعوت مسترد

طالبان (فائل فوٹو)
2001 میں اتحادی فوج نے طالبان حکومت کا خاتمہ کردیا تھا (فائل فوٹو)
افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے اسلامی ملیشیاء کو مذاکرات کی دعوت دینے اور افغان پارلیمنٹ سے ملا عمر کو عام معافی کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے طالبان نے کہا ہے کہ افغان حکومت امریکیوں کی پیدا کردہ ہے لہذا اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف نے اتوار کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے بتایا کہ کابل میں قائم حکومت کی کوئی حیثیت ہی نہیں کہ وہ ایک مجاہد اور آزاد افغان کو معافی کی پیش کش کرے بلکہ جو لوگ افغانستان میں اس وقت اقتدار میں ہیں انہوں نے ملک و قوم سے غداری کی ہے اور افغانستان کو امریکیوں کے حوالے کیا ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے ایک ہفتہ قبل طالبان کو امن مذاکرات کی پیشکش کی تھی جبکہ اس کے چند روز بعد افغان پارلیمنٹ نے بھی طالبان کے امیر ملا عمر اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کو عام معافی دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

قاری یوسف کا کہنا تھا’ کرزئی اور دیگر حکومتی عہدیدار تو خود افغان قوم کے مجرم ہیں کیونکہ انہی لوگوں نے غیر ملکی افواج کو دعوت دی اور معصوم افغانیوں پر بمباری کی۔ وہ دوسروں کو کیا معافی دیں گے، انہیں تو خود افغان عوام سے اپنے لیے معافی طلب کرنی چاہیے‘۔

ترجمان نے افغان پارلمینٹ کی طرف سے عام معافی کے بارے میں واضح کیا کہ یہ معافی تو ان کمانڈروں کے لیے طلب کی گئی ہے جن کے ہاتھ بے گناہ شہریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں جبکہ ان کے مطابق ’امیر المومنین‘ ملا محمد عمر تو کبھی معصوم شہریوں کو قتل کرنے جیسے کسی الزام میں ملوث ہی نہیں ہیں بلکہ انہوں نے تو ہمیشہ اسلام کی سربلندی اور ’افغان ملت‘ کی آزادی کے لیے ’جہاد‘ کیا ہے۔

واضح رہے کہ افغان صدر کی جانب سے طالبان کو امن مذاکرات کی پیش کش ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے کہ جب افغانستان میں دو ہزار ایک میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد گزشتہ سال پہلی دفعہ بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ان جھڑپوں میں چار ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوئے جن میں ایک سو ستر غیر ملکی فوجی بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
کابل میں طالبان کا خوف
27 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد