BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 January, 2007, 05:54 GMT 10:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افغانستان میں مزاحمت تیز ہوگی‘

 بیت اللہ محسود
بیت اللہ 2005 میں امن معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں محسود عسکریت پسندوں کے رہنما بیت اللہ محسود کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اس سال جنگ گزشتہ برس سے بھی زیادہ سخت ہوگی۔

جنوبی وزیرستان میں اپنے ایک مرکز میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں قبائلی جنگجو کا کہنا تھا موسم بہار کی آمد پر ہمسایہ ملک میں جنگ میں تیزی یقینی ہے۔

’انشا اللہ یہ برس ان کے لیے کافی مشکل ہوگا۔ ہم جنگجو لوگ ہیں جنگ کی حالت کو سمجھتے ہیں۔ امریکیوں کو سخت پریشانی ہوگی، دوسری حکومتیں جو یہاں آئی ہوئی ہیں ان کو بھی سخت مشکلات کا سامنا ہوگا۔ مجاہدین مزید سختی اور شدت سے لڑیں گے۔‘

گزشتہ برس کے حملوں کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی اور دیگر مغربی ممالک کے حکام کو خدشہ ہے کہ طالبان موسم بہار کی آمد پر کسی بڑی کارروائی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

افغانستان کی جنگ میں طالبان کو ایک بڑی مشکل امریکہ کی فضائی طاقت ہے۔ تاہم بیت اللہ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کے فضائی حملوں کا جواب ان کے پاس فدائی حملوں کی صورت میں موجود ہے۔

 یہ بیت اللہ سے دوسری ملاقات تھی۔ اس سے قبل فروری دو ہزار پانچ میں سراروغہ کے مقام پر امن معاہدے کے موقع پر ان سے مختصر ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت بیت اللہ امن معاہدے پر دستخط کے لیے جا رہا تھا جبکہ آج کی صورتحال میں حکومت اور بیت اللہ اس معاہدے سے دور ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔

قبائلی جنگجو کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان میں امریکی اور پاکستان میں یہاں کی فوج فضائی برتری رکھتی ہے تو وہ فدائین کی ایسی فوج رکھتے ہیں جو ان کی طاقت کا توڑ ہے۔

افغانستان میں جاری کارروائیوں کے بارے میں بیت اللہ کا کہنا تھا کہ خودکش حملوں میں بھاری جانی نقصان اٹھانے کے بعد اب امریکی فوجی بہت ہوشیار ہوگئے ہیں۔ ’پہلے وہ ایک گاڑی میں پانچ یا چھ کی تعداد میں سفر کیا کرتے تھے لیکن اب دو یا تین سے زیادہ ایک گاڑی میں نہیں بیٹھتے۔‘

افغانستان میں گزشتہ برس سو سے زائد فدائی حملوں میں سینکڑوں کی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں بھی قبائلی علاقوں میں گزشتہ برس پہلی مرتبہ فوج کے خلاف خودکش حملے ہوئے۔

تاہم پاکستان میں سب سے خطرناک فدائی حملہ درگئی کے مقام پر باجوڑ میں ایک مدرسے پر بمباری کے بعد ہوا تھا جس میں بیالیس زیر تربیت فوجی افسر مارے گئے تھے۔

بیت اللہ جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں مقامی طالبان کے رہنما ہیں۔ انہوں نے سال دو ہزار پانچ میں حکومت کے ساتھ سراروغہ کے مقام پر ایک امن معاہدہ کیا تھا تاہم حالیہ دنوں میں حکومت کے ان کے علاقے میں القاعدہ کے مشتبہ ٹھکانے پر حملے کے بعد کشیدگی پائی جاتی ہے۔

بیت اللہ برملا کئی مواقع پر افغانستان اب بھی جانے اور اتحادی افواج کے خلاف لڑائی کا اعتراف کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ماضی میں بھی جہاد میں شریک رہے، اب بھی ہیں اور مستقبل میں بھی یہ کرتے رہیں گے۔

 البتہ بیت اللہ اس بات سے مطمئن ہیں کہ پاکستانی فوج کی کارروائی سے انہیں وہ فائدہ ہو رہا ہے جو ان کی سو برس کی دعوت سے بھی حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔ ’اس سے قبائلیوں میں ہماری حمایت بڑھ رہی ہے۔ عوام ان کا ظلم دیکھ رہے ہیں۔‘
سردی سے بچنے کے لیے ایک چادر لپیٹے درمیانے قد کے بیت اللہ محسود کا اس انٹرویو میں کہنا تھا کہ مسلمان ضرور بہ ضرور کامیاب ہوں گے۔ ’جب اللہ کا فیصلہ ہے کہ مسلمان کامیاب ہوں گے تو پھر کون اس کی نفی کر سکتا ہے۔ انہیں (امریکہ) مٹی کی نقلی ناک بھی نصیب نہیں ہوگی۔ انہیں شرمندہ جانا پڑے گا۔‘

اس انٹرویو کے موقع پر بیت اللہ کے نائب نور سید اور جنگجوؤں کی دیگر اہم قیادت بھی موجود تھی۔ بیت اللہ کے سوا سب پوری طرح مسلح تھے۔ ان کے پاس کلاشنکوف کے علاوہ خنجر اور جانے کیا کیا اسلحہ تھا۔ یہ سب بیت اللہ کو ’امیر صاحب‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔

ایک بڑے سے کمرے میں دیواروں کے ساتھ چارپایاں لگی ہوئی تھیں جبکہ درمیان میں کمرہ گرم رکھنے کے لیے ایک ’بخاری‘ بھی رکھا تھا۔ کمرے سے باہر امریکی فوجیوں سے افغانستان میں چھینا گیا ایک بیٹری چارجر بھی پڑا تھا جو دھوپ سے چلتا تھا۔

ایک امریکی جنرل کے اس بیان کے بارے میں کہ طالبان رہنما جلال الدین حقانی وزیرستان میں مزاحمتی تحریک کو منظم کر کے چلا رہے ہیں تو بیت اللہ نے اس کی تردید کی۔ ’ان ظالموں کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ کوئی ایک ثبوت تو پیش کریں کہ طالبان کا کوئی سابق وزیر آیا ہے۔‘

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو گزشتہ برس بظاہر ایک پشتو کا تقرر نامہ ملا تھا جس میں جلال الدین حقانی کو وزیرستان کا منتظم مقرر کیا گیا تھا۔ ملا عثمانی اور بختہ جان کے دستخطوں کے ساتھ جاری اس خط میں جلال الدین کو وزیر اور محسود جنگجوؤں کا کمانڈر نامزد کیا گیا تھا۔

اس خط میں تحریک چلانے کے لیے رقم اکٹھی کرنے کی غرض سے کمیٹی بنانے کے علاوہ پاکستان سے جنگ نہ کرنے کے لیے بھی کہا گیا تھا جس سے خط کے مطابق امریکہ کو فائدہ ہوگا۔

 ان سے دریافت کیا کہ ان کی سرحد پار کارروائیاں امن معاہدوں کی آیا خلاف ورزی نہیں، تو ان کا جواب تھا کہ وہ کفر کے خلاف لڑتے رہیں گے۔ ’یہود و نصری کے خلاف جہاد کرتے رہیں گے، کرتے رہیں گے اور کرتے رہیں گے۔ آخر میں کامیابی ہماری ہوگی۔ ہم انہیں اسلامی ممالک سے نکال دیں گے اور اس کے بعد ان پر امریکہ اور برطانیہ میں حملے کریں گے تاکہ وہ اسلام قبول کریں یا جزیہ قبول کریں۔‘
یہی پالیسی اب بیت اللہ محسود کی بھی دکھائی دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں پاکستان فوجی کارروائیاں کرکے انہیں مشکل میں ڈال رہے ہیں کیونکہ وہ ان سے لڑنا نہیں چاہتے۔ ’اس سے صرف اور صرف امریکہ کو فائدہ ہوگا اور کسی کو نہیں۔‘

البتہ بیت اللہ اس بات سے مطمئن ہیں کہ پاکستانی فوج کی کارروائی سے انہیں وہ فائدہ ہو رہا ہے جو ان کی سو برس کی دعوت سے بھی حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔ ’اس سے قبائلیوں میں ہماری حمایت بڑھ رہی ہے۔ عوام ان کا ظلم دیکھ رہے ہیں۔‘

دریافت کیا کہ لوگ اس حمایت کا اظہار کس طرح کرتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ لوگوں سے جاکر پوچھیں تو ہر کوئی ہمارا حامی ہے۔ ’چاہیے چھوٹا ہو یا بڑا ہر کوئی ہماری تائید کرتا ہے‘

بیت اللہ سے دریافت کیا کہ کیا ان کی حکومت کو مطلوب ہونے کی امن معاہدے سے پہلے والی حیثیت بحال ہوگئی ہے یا نہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا تعلق بھی شوکت سلطان سے ہے۔

’کیا وہ اسلام اور پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں؟ اگر وہ اسلام اور پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تو خود فیصلہ کریں۔ ورنہ ہم لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ انہوں نے ان لوگوں کو دیکھ لیا ہے کہ یہ امریکی خوشنودی اور ڈالروں کے لیے کیا کچھ کرسکتے ہیں ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہو جاوں۔‘

یہ بیت اللہ سے دوسری ملاقات تھی۔ اس سے قبل فروری دو ہزار پانچ میں سراروغہ کے مقام پر امن معاہدے کے موقع پر ان سے مختصر ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت بیت اللہ امن معاہدے پر دستخط کے لیے جا رہا تھا جبکہ آج کی صورتحال میں حکومت اور بیت اللہ اس معاہدے سے دور ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔

ان سے دریافت کیا کہ ان کی سرحد پار کارروائیاں امن معاہدوں کی آیا خلاف ورزی نہیں، تو ان کا جواب تھا کہ وہ کفر کے خلاف لڑتے رہیں گے۔ ’یہود و نصری کے خلاف جہاد کرتے رہیں گے، کرتے رہیں گے اور کرتے رہیں گے۔ آخر میں کامیابی ہماری ہوگی۔ ہم انہیں اسلامی ممالک سے نکال دیں گے اور اس کے بعد ان پر امریکہ اور برطانیہ میں حملے کریں گے تاکہ وہ اسلام قبول کریں یا جزیہ قبول کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی تحریک میں نا تو کبھی آدمیوں کی اور نہ ہی پیسے کی کمی درپیش رہی ہے۔ ’اللہ تعالی نے خود وعدہ کیا ہے کہ جو میرے راستے میں لڑے کا وسائل کا بندوبست میں خود کروں گا۔ ہمارا ایمان اسباب پر نہیں اللہ پر ہے۔‘

ملا وکیل احمد متوکل ملا وکیل رہا
طالبان کے سابق وزیرخارجہ ملا وکیل رہا ہوگئے
گلبدین حکمت یاررودادِ میران شاہ
حکمت یار کے پوسٹر اور طالبان کی چہل پہل
سی ڈیطالبان ’پراپیگنڈا‘
’خودکش حملہ آور بنو، جنت میں جاؤ‘
ملزمانواقعی طالبان؟
کوئٹہ میں گرفتار مشتہ افراد کون ہیں؟
عورتیںعورتیں اورمذہب
پاکستان میں عورتیں مذہب کی طرف راغب
طالبانطالبان کی واپسی
ایک کمانڈر کےساتھ بی بی سی صحافی کا سفر
طالبان (فائل فوٹو)طالبان کی تردید
’آواز ڈاکٹر حنیف کی نہیں ہے‘
اسی بارے میں
جنگجوؤں کے ساتھ امن معاہدہ
07 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد