’امریکہ،افغانستان مزید مدد کرے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر طالبان کی نقل وحرکت کے خاتمے کے لیے امریکہ اور افغانستان کی جانب سے مزید مدد کی ضرورت ہے۔ میونخ میں سالانہ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ’ پاکستان اس حوالے سے ٹھوس اقدامات کرنا چاہتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ امریکی اور افغان حکام اس حوالے سے ہماری مدد کریں اور ہمیں بتلائیں کہ ان کے نزدیک کن اقدامات کی ضرورت ہے‘۔ خورشید محمود قصوری نے یہ بھی کہا کہ’انتہاپسندی کا خاتمہ صرف نعروں یا درخواستوں سے ممکن نہیں اور اگر ایسا ہوتا تو فلسطین، لبنان، عراق اور افغانستان میں مسائل کب کے حل ہو چکے ہوتے‘۔ پاکستانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موجود مہاجر کیمپوں کی بندش کا فیصلہ سرحدوں کو محفوظ بنانے کے حوالے سے پہلا قدم ہے۔ انہوں نے کہا’یہ سب جانتے ہیں کہ یہ مہاجر کیمپ حالات کی خرابی کے ذمہ دار کچھ افراد کی پناہ گاہ بن چکے ہیں چنانچہ اب افغانستان کو ان افراد کو واپس لے لینا چاہیے‘۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ پاکستان طالبان شدت پسندوں کے حوالے سے اپنی سرحد کی اطمینان بخش نگرانی نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا’ ہمیں باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔ ہم ایک طرف ہیں اور افغانستان میں شکست ہمارے مفاد میں بھی نہیں۔ ہمیں وہاں فتحیاب ہونا ہوگا‘۔ یاد رہے کہ جمعرات کو برلن میں پاکستانی وزیرِ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان اب افغان سرحد پر بارودی سرنگیں بچھانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو ہزار پانچ سو کلومیٹر طویل سرحد واقع ہے جس کا بڑا حصہ پہاڑوں اور دشوارگزار علاقوں پر مشتمل ہے۔ |
اسی بارے میں تین برس میں مہاجرین کی واپسی07 February, 2007 | پاکستان ’امریکہ کے لیے جاسوسی‘: دو قتل06 February, 2007 | پاکستان طالبان سے رعایت، مشرف کا اعتراف02 February, 2007 | پاکستان الزامات بے بنیاد ہیں: پاکستان19 May, 2006 | پاکستان طلباء کو اکسایا جاتا ہے: کرزئی18 May, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||