تین برس میں مہاجرین کی واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان، افغانستان اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے مہاجرین نے فیصلہ کیا ہے کہ تین سال کے اندر پاکستان سے افغان مہاجرین کے انخلاء کا عمل مکمل کر لیا جائے گا اور اس کے بعد بلا اجازت پاک افغان سرحد عبور کرنے والے افغان کو غیر قانونی تارک وطن قرار دیا جائے گا۔ اس بات کا اعلان آج اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا جس میں پاکستان کے وزیر مملکت برائے سرحدی امور سردار محمد یار رند، افغان وزیر بحالی مہاجرین استاد محمد اکبر اکبر اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے نمائندوں اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اس سے قبل بارہواں سہ فریقی اجلاس ہوا تھا جس میں افغان مہاجرین کی مکمل واپسی کا طریقۂ کار اور اوقات طے کیے گئے۔ پریس کانفرنس کے شرکاء نے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں چار افغان مہاجر کیمپ بند کرنے اعلان کیا اور کہا کہ دو کیمپ پندرہ جون اور دیگر دو کیمپ اکتیس اگست کو بند کر دیے جائیں گے اور ان کیمپوں کے پناہ گزینوں کو اقوام متحدہ کے بحالی پروگرام کے تحت واپس بھجوایا جائے گا۔ حکام نے کہا کہ جو مہاجرین فوری واپس نہیں جاسکیں گے انہیں دوسرے کیمپوں میں منتقل کر دیا جائے گا۔
پاکستان کے وزیر مملکت برائے سرحدی امور سردار یار محمد رند نے کہا کہ اکیس لاکھ افغان مہاجرین کی رجسڑیشن ہو چکی ہے اور یہ عمل دو ماہ کے اندرمکمل کرلیا جائے گا اور مزید چھ ہفتے کی رعایتی مدت کے بعد جس افغان کے پاس رجسڑیشن کارڈ نہیں ہوگا اسے غیرملکی تارک وطن تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا تین برس بعد تمام رجسڑیشن کارڈوں کی معیاد پوری ہو چکی ہوگی اور اس وقت تک یعنی سنہ دو ہزار نو تک مہاجرین کی واپسی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ پاکستانی وزیر نے کہا کہ رجسڑیشن کروانے والے افغان مہاجرین کو پاکستان کے قومی شناختی کارڈ کی طرز پر کارڈ جاری کیے گئے ہیں جن کی معیاد تین برس ہے جو افغان واپس جائے گا اس کے کارڈ کا کونہ سرحد پر پھاڑ دیا جائے گا۔ اس کی آنکھوں کا عکس بھی کمپیوٹر پر محفوظ کیا جائے گا اس طرح ان کے بقول ان افغانوں کی واپسی کو روکا جائے گا۔ حکام نے کہا کہ رجسڑیشن کے حامل افغان مہاجرین کو وطن واپسی پر ساٹھ امریکی ڈالر فی کس امداد دی جائے گی جسے بڑھا کر سو ڈالر فی کس کرنے پر غور ہو رہا ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ بحالی کے پروگرام پر سو ملین ڈالر کا خرچہ آئے گا جبکہ اقوام متحدہ کے ادارے کے پاس اس وقت پندرہ ملین ڈالر ہیں جن میں سے پانچ ملین پاکستان نے دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باقی رقم کے لیے مختلف امدادی اداروں اور ممالک سے بات کی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں پاکستان کے وزیر مملکت سردار محمد یار رند نے کہا کہ سنہ دو ہزار نو کے بعد پاکستان میں بلا اجازت نامہ پائے جانے والا افغان باشندہ غیر قانونی تارک وطن ہوگا اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایک بین الاقوامی ادارے کے سروے کےمطابق ستاون فیصد افغان مہاجرین نے سنہ دوہزار پانچ میں کہا تھا کہ ان کی واپسی میں بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ افغانستان میں ان کی رہائش کے لیے کوئی زمین یا چھت نہیں ہے۔ افغان وزیر استاد محمد اکبر اکبرنے کہا کہ مہاجرین کے بحالی کے لیے افغانستان کے انتیس صوبوں میں پچاس ٹاؤن بنائے گئے ہیں جہاں انہیں اراضی اور مکان فراہم کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کا منصوبہ ہے کہ ان کالونیوں کی تعداد دوگنی کر دی جائے۔ |
اسی بارے میں افغان مہاجرین کی رجسٹریشن جاری03 February, 2007 | پاکستان افغان مہاجر: اندراج کے عمل میں توسیع17 January, 2007 | پاکستان رجسٹریشن: ’31 دسمبر تک مکمل‘ 07 November, 2006 | پاکستان اندراج سست روی کا شکار19 October, 2006 | پاکستان مہاجر:پاکستان میں رچ بس جانا مقدر 21 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||