BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 February, 2007, 05:04 GMT 10:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان مہاجرین کی رجسٹریشن جاری

پاکستان میں چوبیس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین موجود ہیں۔
حکومت پاکستان نے افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کے لیے مقررہ تاریخ میں پندرہ روز کی توسیع کر دی ہے۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مہاجرین کی رجسٹریشن کی مقررہ تاریخ دو فروری سے بڑھا کر پندرہ فروری کر دی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فاہدہ اٹھا سکیں۔

پندرہ 15 اکتوبرسے جاری رجسٹریشن کے اس عمل میں اب تک بیس لاکھ سے زیادہ مہاجرین کوکمپیوٹرایزڈ کارڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔

اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین (یواین ایچ سی آر) کے ترجمان بابر بلوچ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹریشن کے اس عمل میں کوشش کی جائے گی کہ ان تمام مہاجرین کی رجسٹریشن ہوسکے جس کے لیئے وقت 2 فروری سے بڑھا کراب 15 فروری کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت بھی پاکستان میں چوبیس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین موجود ہیں۔

جس میں سے10 لاکھ کے قریب بلوچستان اورسرحد کے مختلف کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔

صوبہ سرحد کے جلوزی اورکچہ گڑی سمیت بلوچستان کی گردی جنگل اور جنگل پیرعلی زی کیمپ میں دو لاکھ مہاجرین بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں

ان مہاجرین کی رجسٹریشن کیلئے اقوام متحدہ ادارے برائے مہاجرین نے حکومت کے توسط سے( نادرہ ) کوساٹھ لاکھ ڈالردیئے ہیں۔

واضع رہے کہ بلوچستان اور صوبہ سرحد میں مہاجرین کے ان کیمپوں میں اقوام متحدہ کی جانب سے اس وقت صرف صحت تعلیم اور پینے کےلیے صاف پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ جبکہ صوبہ سرحد کے جلوزی اورکچہ گڑی سمیت بلوچستان کی گردی جنگل اور جنگل پیرعلی زی کیمپ میں دو لاکھ مہاجرین ان سہولتوں سے بھی محروم ہیں کیونکہ ان چارکیمپوں کو حکومت پاکستان نے جون 2005 میں بندکردیئے تھے۔

لیکن امداد بند ہونے کے باوجود یہ مہاجرین نہ افغانستان جا رہے ہیں اورنہ ہی پاکستان کے اندر کسی اور کیمپ میں رہائش اختیار کرنے کےلیے تیار ہیں۔

پاکستان کہتا رہا ہے کہ جب تک افغان سرحد سے ملحقہ صوبوں، بلوچستان اور سرحد میں مہاجرین کے کیمپ بند نہیں ہوں گے اس وقت تک افغانستان اور پاکستان کےان سرحدی علاقوں میں امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان افغانستان اور اقوام متحدہ کی ٹرای پارٹایٹ کمیشن کا ایک اجلاس منگل کو لاہور میں ہوگا جس میں رجسٹریشن میں حصہ نہ لینے اور بند کیمپوں سے نہ جانے والے مہاجرین کی مستقبل کے بارے میں بھی اہم فیصلوں کا امکان ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے (یواین ایچ سی آر) کی جانب سے افغان مہاجرین کی رضا کارانہ واپسی کا کام بھی اس سال مارچ میں دوبارہ شروع ہوگا۔

جوگزشتہ سال اکتوبرمیں پاکستان میں افغان مہاجرین کی رجسٹریشن شروع ہونے کی وجہ سے عارضی طور پر معطل ہوگئی تھی۔

واضع رہے کہ پاکستان سے2002 میں افغان مہاجرین کی افغانستان واپسی شروع ہوہی تھی یواین ایچ سی آر کے اعداد وشمار کے مطا بق اب تک 28 لاکھـ سے زیادہ واپس جا چکے ہیں جبکہ 24 لاکھ ابھی تک بلوچستان اورصوبہ سرحد کے مختلف کیمپوں اورشہروں میں موجود ہیں۔

اسی بارے میں
اندراج سست روی کا شکار
19 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد