اندراج سست روی کا شکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان بھر میں حکومت کی جانب سے شروع کی گئی افغان مہاجرین کی مردم شماری اور اندراج کا کام سست روی کا شکار ہوگیا ہے جبکہ صوبہ سرحد کے کچھ علاقوں میں مہاجرین نےرجسٹریشن کی بعض شقوں پر اعتراض کرتے ہوئے اس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے ۔ نیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی یا نادرا اور پناہ گزین کے لیئے اقوام متحدہ کے ادارہ یو این ایچ سی آر کی جانب سے پندرہ اکتوبر کو ملک بھر میں موجود افغان مہاجرین کے رجسٹریشن شروع کی گئی تھی جو اس سال کے آخر تک جاری رہے گی۔ اس مُہم کا مقصد پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے سلسلے میں جامع پالیسی بنانے کے لیئے اعداد و شمار اکھٹے کرنا ہے۔ صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مہاجرین کی عدم دلچسپی اور ان کی جانب سے خدشات کے اظہار کے بعد اندراج کا یہ عمل سخت سست روی کا شکار ہوگیا ہے۔ ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی اس مہم کےلیئے پشاور میں اب تک تین رجسٹریشن سنٹرز قائم کیے گئے ہیں جس میں سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ تین دنوں کے دوران صرف چند خاندان ہی کی رجسٹریشن ہوسکی ہے۔ ادھر صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع ہنگو اور کوہاٹ میں رہنے والے مہاجرین کی ایک بڑی تعداد نے بھی بعض وجوہات کی بناء پر رجسٹریشن کے اس طریقۂ کار کا بائیکاٹ کیا ہے۔ ہنگو ارو کوہاٹ میں کل اکیس مہاجر کیمپ ہیں جس میں زیادہ تر کیمپوں میں تاحال اندراج کا کام شروع نہیں ہوسکا ہے۔ ہنگو میں کوٹکی مہاجر کیمپ کے سربراہ عبد الرحمن نیازی نے بی بی سی کو بتایا کہ مہاجرین کو یہ شکایت ہے کہ انہیں حکومت پاکستان کی جانب اس مہم کے دوران جو کارڈ جاری کیا جانا ہے اس پر کوئی خاص مدت درج نہیں ہونا چا ہیے بلکہ ایسے کارڈز جاری کیے جائیں جو غیر معینہ مدت تک کارآمد ہوں۔ ’افغانستان کے حالات کا کچھ پتہ نہیں، اگر تین سال کے بعد بھی وہاں حالات ٹھیک نہیں ہوتے تو مہاجرین اس کےلیئے بالکل تیار نہیں ہونگے کہ وہ واپس اپنے ملک چلے جائیں لہذا بہتر یہی ہوگا کہ کارڈ میں اس بات کا تذکرہ ہی نہ کیا جائے کہ یہ کب تک کارآمد ہوگا۔‘
انہوں نے کہا کہ کارڈ کے اوپر خواتین کی تصاویر چسپاں کرنے کی شرط بھی مہاجرین کو قابل قبول نہیں، جب تک ان خدشات کو دور نہیں کیا جاتا یہ مہم کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ تاہم اس سلسلے میں پشاور میں یو این ایچ سی آر کی ترجمان ربعیہ علی سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہنگو اور کوہاٹ کے بعض کیمپوں میں کچھ وجوہات کی بناء پر پہلے دو دنوں میں اندراج کا عمل شروع نہیں ہوسکا تھا لیکن بدھ کو وہاں پر کچھ فیملیز نے رجٹسریشن کروائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان خواتین کے تصویر کا جو مسئلہ تھا وہ بھی حل کرا لیا گیا ہے اور رفتہ رفتہ اس طریقۂ کار میں تیزی آئے گی۔ واضح رہے کہ اس وقت پاکستان کے مختلف شہروں میں پچیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین آباد ہیں۔ گزشتہ سال حکومت نے ان مہاجرین کی مردم شماری کے بعد اس سال ان کی رجسٹریشن کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کے دوران رجسٹرڈ شدہ مہاجرین کو ایک کارڈ جاری کیا جائے گا جو ان کا ’پروف آف رجسٹریشن‘ یعنی رجسٹریشن کا ثبوت ہوگا جس کی مدت تین برس ہوگی جبکہ یہ دستاویز ان کی وطن واپسی پر منسوخ ہو جائے گی۔ |
اسی بارے میں افغان قبیلے کا احتجاجی مظاہرہ13 July, 2006 | پاکستان لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین واپس11 July, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||