افغان پناہ گزینوں کا اندراج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی (نادرا) نے پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کی مردم شماری اور اندراج کے کام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مُہم کا مقصد پاکستان بھر میں موجود افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے سلسلے میں جامع پالیسی بنانے کے لیئے اعداد و شمار اکھٹے کرنا ہے۔ مردم شماری مہم کے بارے میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے نادرا کے سربراہ بریگیڈیئر(ر) سلیم معین کا کہنا تھا کہ مردم شماری کا عمل تین ماہ کے دوران مکمل ہوگا اور اس کے لیئے ملک بھر میں تراسی سینٹر قائم کیئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ موبائل ٹیمیں بھی مصروفِ عمل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مردم شماری پر قریباً چھپن لاکھ امریکی ڈالر لاگت آئے گی اور اس کا خرچ، اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین برداشت کرے گا۔ بریگیڈیئر(ر) سلیم معین کے مطابق یہ ایک نہایت مشکل کام ہے کیونکہ افغان پناہ گزین پاکستان بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس ماہ یکم اکتوبر کو جھنگ اور چترال کے علاقے میں موجود پناہ گزینوں کی مردم شماری کی ایک دس روزہ پائلٹ مشق کی گئی جس کے بعد اب اس عمل کا ملک گیر آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے مارچ سنہ 2005 میں افغان باشندوں کی جو مردم شماری کی گئی تھی اس کے اعدادوشمار کے مطابق اُس وقت ملک میں تیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین موجود تھے۔ تاہم افغانستان میں حالات کی بہتری کے بعد پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا عمل شروع ہونے کی وجہ سے اب ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں چوبیس لاکھ کے قریب افغان پناہ گزین موجود ہیں۔ نادرا کے سربراہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ مردم شماری کے وقت ان پناہ گزین کو کسی قسم کی شناختی دستاویزات مہیا نہیں کی گئی تھیں لیکن اس مرتبہ انہیں ایک ’پروف آف رجسٹریشن‘ یعنی رجسٹریشن کا ثبوت مہیا کیا جائے گا جس کی مدت تین برس کی ہوگی اور یہ دستاویز ان کی وطن واپسی پر منسوخ ہو جائے گی۔ اس شناختی دستاویز پر مہاجر کی پاکستان آمد کی تاریخ، اس کے آبائی علاقے، نسلی تعلق اور افغانستان واپسی میں حائل مشکلات سے متعلق معلومات درج ہوں گی۔ پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی مردم شماری کے عمل کے آغاز کے ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے والے پناہ گزین کی امداد کا سلسلہ معطل کردیا ہے، تاکہ یہ افراد بھی مردم شماری کے عمل میں شریک ہو سکیں۔ یاد رہے کہ 1979 میں سابق سویت یونین کے افغانستان پر قبضے کے بعد تقریباً تیس لاکھ افغان پناہ گزین پاکستان کے سرحدی علاقوں میں قائم کردہ خیمہ بستیوں اور کیمپوں میں قیام پذیر ہوئے تھے اورگزشتہ ستائیس سالوں میں افغانستان کے سیاسی حالات میں کوئی نمایاں بہتری نہ ہونے کی وجہ سے اکثر پناہ گزین چاہتے ہوئے بھی اپنے وطن واپس نہیں جا سکے۔ پاکستان میں آباد ان پناہ گزینوں میں سے کچھ تو معاشی طور پر مضبوط ہیں لیکن زیادہ تر خاندانوں کی مالی حالت بہت کمزور ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کی نصف سے زائد تعداد یومیہ مزدوری پر کام کرتی ہے۔ | اسی بارے میں افغان پناہ گزینوں کے عارضی کیمپ ختم30.06.2003 | صفحۂ اول دس لاکھواں افغان پناہ گزیں17.06.2002 | صفحۂ اول لاکھوں افغان مہاجرین کی واپسی13.05.2002 | صفحۂ اول افغان پناہ گزین مزید مشکلات سے دو چار10.04.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||