چوبی قالین، افغان مہاجرین کا تحفہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں قدرتی نباتاتی رنگوں اور ہاتھ سے تیار کیے گئے چوبی قسم کے قالین اس وقت عالمی منڈی میں بہت مقبول ہیں اور پاکستان ان کی برآمد سے سالانہ بارہ ارب روپے کماتا ہے۔ ہلکے رنگوں سے بے شمار ڈیزائنوں میں بنے ہوئے دبیز چوبی یا زگر نام کے یہ قالین غزنی کی اون قدرتی نباتاتی رنگ سے بنائے جاتے ہیں اور صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ یہ دستی قالین ملک کو افغان مہاجرین کا تحفہ ہیں۔ لاہور میں کارپٹ صنعت کے ترجمان نعیم طاہر کا کہنا ہے کہ اٹلی میں پرانی مستند اشیاء کے بازاروں خصوصاً میلان کے تاجروں میں پاکستان کا بنا ہوا چوبی قالین بہت پسند کیاجاتا ہے۔ پاکستان کی قالین کی سالانہ برآمدات ڈھائی سو ملین ڈالر کی ہیں جس میں سے دو ملین سو ڈالر کی برآمد صرف ان چوبی قالینوں کی ہیں۔ ملک میں تقریباً سات لاکھ افراد قالین بافی کی صنعت سے وابستہ بتائے جاتے ہیں۔ پاکستان کے ایک بڑے قالین ایکسپورٹر ندیم ملک کہتے ہیں کہ امریکہ ان قالینوں کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اس کے بعد اٹلی اور جرمنی۔ وہ کہتے ہیں کہ چوبی قالینوں کی خاص بات یہ ہے کہ اس قسم کے قالین چار پانچ سو سال پہلے سولہویں صدی میں بنا کرتے تھے اور اب ان کا دوبارہ احیاء کیا گیا ہے۔ صنعتکار کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے یہ قالین ترکی میں بننے شروع ہوئے لیکن ترکی کے چوبی قالینوں کی قیمت پاکستان کے مال سے دگنی ہے اس لیے پاکستان کے ہاتھ سے بنے ہوئے یہ قالین عالمی منڈی میں زیادہ فروخت ہوتے ہیں۔
ندیم ملک کا کہنا ہے کہ چوبی قالین عام طور سے دو گانٹھ سے بنائے جاتے ہیں اور اس کی تیاری میں بُنائی کی نئی تکنیکیں اور چھبیس قسم کی اون استمعال کی جاتی ہے۔ نمونوں میں زیادہ تر پھولوں کے نقش بنائے جاتے ہیں لیکن اب جیومیٹریکل ڈیزائن بھی تیار کیے جارہے ہیں۔ نعیم طاہر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بنے ہوئے چوبی قالینوں کو عالمی منڈی میں اتنی پذیرائی ملی کہ ایک سال سے اس کی نقل دوسرے ملکوں جیسے بھارت اور چین میں بھی تیار کی جانے لگی ہے۔ پاکستان کے صنعتکار ان ملکوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ ایکسپورٹر ندیم ملک کا کہنا ہے کہ چوبی قالین تیار کرنے کی ابتداء پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی بستیوں میں ہوئی جو اس فن سے روایتی طور پر واقف تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب بھی یہ قالین زیادہ تر صوبہ سرحد میں تیار کیا جارہا ہے اور جب افغان مہاجرین افغانستان واپس چلے گئے تو یہ قالین وہاں سے تیار ہوکر پاکستان آرہا ہے۔ پاکستان آنے والے تیس لاکھ افغان مہاجرین کے ملک پر منفی اثرات کا بیشتر تذکرہ رہتا ہے لیکن پاکستان چوبی قالینوں کی برآمد جو زرمبادلہ میں کماتا ہے وہ بھی افغان مہاجرین کی دین ہے۔ | اسی بارے میں کھڈی بنانے پرعالمی ایوارڈ22 September, 2005 | پاکستان پاکستان کے چالیس لاکھ مزدور بچے 14 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||