کھڈی بنانے پرعالمی ایوارڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب میں محکمہ محنت کے ایک افسر کو قالین بافوں کے لیے ایک باسہولت کھڈی تیار کرنے پرامریکہ میں اس سال عالمی ٹیکنالوجی ایوارڈ برائے انسانیت کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ وزیراعلی پنجاب پرویز الٰہی نے جمعرات کو لاہور میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ محکمہ محنت کے ڈائریکٹر سعید احمد اعوان کو قالین بافوں کے لیے نئی کھڈی تیار کرنے پر یہ ایوارڈ دیاگیا ہے۔ یہ کھڈی عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کے تعاون سے مرکز برائے بہتری حالات کار و ماحول میں تیار کی گئی اور اس وقت پنجاب میں زیر استعمال ہے۔ وزیراعلٰی نے بتایا کہ دنیا کے چونسٹھ ملکوں سے تین سے زیادہ ایجادات میں سے اس کھڈی کو ہر سال دیے جانے والے ایوارڈ کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے۔ امریکی ادارہ اس سال پانچ افراد کو یہ ایوارڈ دے گا جس میں سے کسی ایک شخص کو پچاس ہزار ڈالر دیے جائیں گے اور نو نومبر کو کیلی فورنیا میں ایوارڈ دینے کی تقریب ہوگی جو ایک ہفتہ جاری رہے گی۔ محکمہ محنت کے ڈائریکٹر سعید احمد اعوان نے بی بی سی کوبتایا کہ اس کھڈی کی خصوصیت یہ ہے کہ قالین باف بینچ پر بیٹھ کر پاؤں لٹا کر اور اپنی ٹیک لگا کر قالین بن سکتا ہے جبکہ روایتی کھڈی پر پاؤں یا گھٹنے کے بل بیٹھنا پڑتا تھا جس سے قالین باف کی ہڈیاں مڑ جاتی تھیں اور اسے جوڑوں کا مرض ہوجاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نئی کھڈی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اون کے رؤویں سے قالین باف کو بچانے کے لیے فرش پر ایک پلاسٹک کی چٹائی بچھادی جاتی ہے جس پر سے گیلے کپڑے سے اُون کے رؤویں کو صاف کیا جارتا رہتا ہے اور یوں وہ اڑ کر کام کرنے والے کی سانس کے ساتھ جسم میں نہیں جاتا۔
قالین باف مزدوروں کے ساتھ کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم سدھار آئی ٹی اے الائنس کی صوفیہ عزیز نے اس کھڈی کا عملی کام دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کھڈی پر کام کرنے والے کو آگے جھک کر کام نہیں کرنا پڑتا جس سے اس کے کندھے اور کمر میں درد کی شکایت نہیں ہوتی۔ صوفیہ عزیز کے مطابق اس نئی کھڈی پر جب قالین بُنا جاتا ہے تو قالین کی گرہیں آنکھ کے متوازی رہتی ہیں اور اس سے بصارت پر بھی برا اثر نہیں پڑتا جیسا کہ روایتی کھڈی سے پڑتا تھا۔ سعید احمد اعوان نے کہا کہ روایتی کھڈی کو دیوار کے ساتھ گاڑ کر لگانا پڑتا تھا اور وہاں ہوا اور روشنی کم ہوتی تھی جبکہ نئی کھڈی کو کہیں بھی رکھا جاسکتا ہے اس لیے کام کے وقت روشنی اور ہوا کا گزر بڑھ جاتا ہے۔ روایتی کھڈی میں قالین تیار ہونے پر اس موڑنے کے لیے ایک چین ہوتی تھی جو بعض اوقات پارچہ باف کو زخمی کردیتی تھی جبکہ نئی کھڈی میں لیور کے ساتھ قالین کو موڑا جاسکتا ہے جس سے کارندے کے زخمی ہونے کا خدشہ نہیں رہتا۔ اس نئی کھڈی کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس پر کاریگر بیٹھ کر یا کھڑے ہوکر دونوں طرح کام کرسکتا ہے۔
روایتی کھڈی کی ساخت ایسی تھی کہ کام کرنے والے جلد بیمار ہوجاتے تھے اوراپنے بچوں کواس پر کام میں لگا دیتے تھے۔ سعید اعوان کا کہنا ہے کہ نئی کھڈی سے کاریگر کی صحت کو لاحق خطرات بہت کم ہوگئے ہیں اس لیے اب بچوں کو کام پر لگانے کا رجحان ختم ہوگا۔ وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ ان کی حکومت نے آئی ایل او کے ساتھ مل کر پنجاب کے چھ ضلعوں میں قالین بافی سے وابستہ کاریگر بچوں کو کام سے ہٹا کر اسکولوں میں داخل کرایا ہے تاکہ وہ تعلیم حاصل کرسکیں۔ پاکستان میں قالین بافی کی دستی صنعت میں بچوں کی مزدوری اور جبری مشقت کا معاملہ دس سال پہلے دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنا تب سے حکومت اور عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے اس صنعت سے بچوں کی مزدوری ختم کرنے اور کاریگروں کے حالات کار بہتر بنانے کےلیے مختلف منصوبے شروع کیے۔ یہ کھڈی ایک ایسے ہی منصوبہ کے تحت محکمہ محنت کے مختلف لوگوں نے مل کر تیار کی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||