لاپتہ پاکستانی، معمہ تاحال حل طلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو ہفتوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بھی عراق میں غائب ہونے والے پاکستانیوں کا معمہ ابھی تک حل نہیں ہوسکا ہے اور اب پاکستان حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے بریفنگ کے دوران پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نعیم خان نے بتایا تھا کہ ایک کویتی کمپنی میں کام کرنے والے گیارہ پاکستانی جو اغوا کر لیے گئے تھے انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کویتی کمپنی کے حوالے سے کہا تھا کہ رہا ہونے والے شہریوں کو جلد کویت پہنچایا جائے گا۔ ان کے بیان کے دو روز بعد یہ خبر آئی کہ عراق میں پاکستانی اغوا نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کے پاس سفری دستاویز نہیں تھیں جس پر عراقی پولیس نے انہیں حراست میں لیا تھا اور وہ اب بھی ان کے پاس ہیں۔ آج جب دفتر خارجہ کے ترجمان سے پوچھا گیا تو انہوں نے پاکستانیوں کے اغوا ہونے یا پولیس کی حراست میں ہونے کی تصدیق کیے بنا کہا کہ وہ اس بارے میں کویت اور عراق کے حکام سے رابطے میں ہیں اور معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ البتہ انہوں نے کہا کہ اصل صورتحال ان پاکستانیوں کی واپسی کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ ترجمان نے ان پاکستانیوں کی تعداد کے بارے میں تو بتایا کہ وہ گیارہ نہیں بلکہ آٹھ ہیں لیکن وہ ان کے اغوا ہونے کے بارے مزید بات کرنے سے گریزاں تھے۔ ہوسکتا ہے کہ پاکستانی حکومت کو عراق میں سفارتی عملہ نہ ہونے کی وجہ سے معلومات حاصل کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہو کیونکہ اس نے عراق میں تعینات سفیر پر ہونے والے حملے کے بعد اپنا عملہ اردن منتقل کر دیا تھا۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ وہ فلسطین کے سربراہ محمود عباس کی دعوت پر ایک وفد بھیجنے کے انتظامات کو حتمی شکل دے رہے ہیں جس میں سیاسی شخصیتیں بھی شامل ہوں گی۔ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور اگر کوئی وفد وہاں گیا تو نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ میں کوئی پہلا پاکستانی سرکاری وفد ہوگا۔ ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ پاکستان کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور وہ اپنا وفد کس ملک کے ویزے پر بھیجیں گے تو انہوں نے کہا کہ وہ فلسطینی صدر کی دعوت پر جا رہے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو امریکہ کے حوالے کرنے کے بارے میں کوئی دباؤ نہیں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے ڈاکٹر خان سے پوچھ گچھ کے بعد معلومات عالمی برادری کو فراہم کی تھی جس سے وہ مطمئن ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں انٹر نیشنل اٹامک انرجی کمیشن کی تحقیقات اور پاکستانی حکام کی ان سے ملاقاتوں کو نعیم خان نے اطمینان بخش قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو متعلقہ آلات عالمی جوہری ادارے نے واپس کیے ہیں اور اب اس معاملے میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نیویارک میں صرف یہودیوں سے نہیں بلکہ ’انٹر فیتھ، کی تقریب سے خطاب کریں گے جس میں مسلمان اور عیسائی بھی ہوں گے۔ بریفنگ کے دوران وزارتِ خارجہ کےترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے خارجہ سکریٹریوں کے درمیان یکم ستمبر جبکہ وزراء خارجہ کی سطح پر اکتوبر کے پہلے ہفتے کو اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں جامع مذاکرات کے سلسلے میں ہونے والی بات چیت کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||