پاکستان ایک کاروبار موافق ملک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی بنک اور عالمی مالیاتی کارپوریشن کی ایک تازہ مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کاروبار کو آسان بنانے کی اصلاحات کرنے میں جنوبی ایشیا کے ملکوں میں سب سے آگے ہے اور اصلاحات کی رفتار کے اعتبار سے دنیا میں دسویں درجہ پر ہے۔ ’سنہ دو ہزار چھ میں کاروبار کرنا‘ کے عنوان سے اس سالانہ رپورٹ میں ایک سو پچپن ملکوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان، بھارت سے زیادہ کاروبار کے لیے موافق ملک ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کاروبار شروع کرنا زیادہ آسان ہے کیونکہ اس نے جائداد رجسٹری کرانے کے اخراجات میں کمی کی ہے، کارپوریٹ قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے بڑھائے ہیں اور بیرون ملک تجارت کے لیے ہر شپمینٹ کا لائسنس لینے کے بجائے دو سال کے لائسنس جاری کیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشا کے سب ملکوں نے اصلاحات کی رفتار تیز کی ہے تاکہ روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنے کے لیے درمیانے اور چھوٹے درجے کے کاروباروں کی مدد کی جاسکے لیکن اب بھی علاقے کے زیادہ تر ملکوں میں کاوبار پر بھاری قانونی بوجھ موجود ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق کاروبار کے موافق ملک کی حیثیت سے دنیا میں پاکستان ساٹھویں درجہ پر ہے جبکہ بھارت ایک سو سولویں درجہ پر۔ یورپی ممالک کاروبار موافق ماحول پیدا کرنے میں سب سے زیادہ سرگرم ممالک میں شمار کیے گئے ہیں۔ یاد رہے حالیہ چند برسوں میں پاکستان نے ٹیلی مواصلات، ٹیکسٹائل اور آٹو موبائل تیار کرنے کے شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق یکم جولائی سے شروع ہونے والے رواں مالی سال میں پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد میں ستایس لاکھ صارفین کا اضافہ ہوا ہے ور یہ تعداد اب ایک کروڑ پچپن لاکھ تک پہن گئی ہے۔ پاکستان کی کل آبادی پندرہ کروڑ سے زیادہ ہے۔ اسی طرح پاکستان موٹرز موینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں اس ماہ کاوں کی پیداوار اور فروخت میں بالترتیب تینتیس اور پینتیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس ماہ گزشتہ سال اگست کے مقابلہ میں ملک میں تیس فیصد زیادہ موٹرسائکلیں تیار کی گئیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||