پاکستان: تقریریاں اور تبادلے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم شوکت عزیز نے حکومتی کاروبار چلانے والے تئیس اہم سویلین عہدوں کے افسران کے تبادلوں اور تعیناتی کے احکمات جاری کردیے ہیں۔ شوکت عزیز کے وزیر اعظم بننے کے بعد پہلی دفعہ اتنی بڑی تعداد میں اہم عہدوں پرتعینات افسران کی تقریریاں اور تبادلے کیے گئے ہیں۔ ہٹائے جانے والے بعض افسران کو افسر بکار خاص بنادیا گیا ہے۔ اسٹیبلشمینٹ ڈویژن سے جاری کردہ نوٹیفکیشنز کے مطابق سیکریٹری اطلاعات سید انور محمود کو وزارت صحت کا سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ جہاں سے طارق فاروق کا تبادلہ کرکے انہیں سیکریٹری پارلیمانی امور تعینات کیا گیا ہے۔ پارلیمانی امور کے سیکریٹری بلال احمد کو سپیشل سیکریٹری فنانس(ملٹری) لگایا گیا ہے۔جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے چیف سیکریٹری شاہد رفیع کو تبدیل کرکے انچارج سیکریٹری اطلاعات مقرر کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سید انور محمود کے وزیراطلاعات شیخ رشید احمد کے ساتھ بعض امور پر اختلاف پیدا ہو گئے تھے۔ انفرمیشن سروس گروپ میں بائیس گریڈ کے افسران کی موجودگی میں سیکریٹری اطلاعات کسی اور سروس گروپ سے لیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری شجاع شاہ کو تبدیل کرکے سیکریٹری اقتصادی امور لگایا گیا ہے جہاں سے ڈاکٹر وقارمسعود کا تبادلہ کرکے سپیشل سیکریٹری وزیراعظم سیکریٹیریٹ تعینات کیا گیا ہے۔ جبکہ منصوبہ بندی ڈویژن کے سیکریٹری جاوید صادق ملک کو وزیراعظم نے اپنا نیا پرنسپل سیکریٹری مقرر کیا ہے۔ وزارت محنت و افرادی قوت کے سیکریٹری ہمایوں فرشوری کو سیکریٹری منصوبہ بندی ڈویژن بنایا گیا ہے جبکہ آصف حیات کو سیکریٹری ریلوے سے تبدیل کر کے سیکریٹری محنت و افرادی قوت مقرر کیا ہے۔ پاپولیشن ویلفیئر کے سیکریٹری شکیل درانی کو ریلوے کا سیکریٹری اور شہزاد شیخ کو پاپولیشن کا نیا سیکریٹری تعینات کیا گیا ہے۔ سرمائیکاری بورڈ کے سیکریٹری جہانگیر بشیر کو نجکاری ڈویزن کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے اور سیکریٹری نجکاری سلیم گل شیخ کو سیاحت و ثقافت کا سیکریٹری تعینات کیا گیا ہے۔ سیکریٹری لوکل گورنمینٹ اور دیہی ترقی محسن اسد اور کشمیر امور کے ایڈیشنل سیکریٹری گلزار خان کو افسر بکار خاص یعنی او ایس ڈی بنایا گیا ہے۔ جبکہ پہلے سے بطور افسر بکار خاص بنے ہوئے رسول بخش بلوچ کو ایڈیشنل سیکریٹری کشمیر امور اور شفقت حسین ایزدی کو سیکریٹری لوکل گورنمینٹ و دیہی ترقی مقرر کیا گیا ہے۔ کسی بھی افسر کو او ایس ڈی لگانا انہیں سزا دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ نیپا کوئٹہ کے ڈائریکٹر جنرل غیاث الدین احمد اور مواصلات کی وزارت کے ایڈیشنل سیکریٹری کو ترتیبوار اقلیتی امور اور سمندر پار پاکستانی ڈویزن میں ایڈیشنل سیکریٹری تعینات کیا گیا ہے۔ انسداد منشیات کی ڈویزن کے سیکریٹری خالد لطیف کو او ایس ڈی بنایا گیا ہے اور پہلے سے او ایس ڈی بنے ہوئے میاں ظہیر کو ایڈیشنل سیکریٹری انسداد منشیات ڈویزن لگایا گیا ہے۔ وزارت داخلہ میں قائم’کرائسس مئنیجمینٹ سیل، کے سربراہ برگیڈیئر جاوید اقبال چیمہ جو فوج سے یکم نومبر کو ریٹائر ہوئے انہیں اس تاریخ سے موجود حیثیت میں دو سال کی مدت کے لیے کانٹریکٹ پر بھرتی کرکے کام جاری رکھنے کا کہا گیا ہے۔ وزیراعظم شوکت عزیز کا بڑے پیمانے پر کیے گئے ان تبادلوں اور تعیناتی سے یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ وہ ایک با احتیار وزیراعظم ہیں۔ یاد رہے کہ چند ہفتے قبل فوجی افسران کے بھی بڑے پیمانے پر تبادلے، ترقیاں اور تعیناتیاں ہوئیں تھیں جس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ صدر مشرف نے اس سے فوج پر اپنی گرفت مضبوط ہونے کا تاثر دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||