BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہاجر:پاکستان میں رچ بس جانا مقدر

مہاجر
پاکستان میں افغانی نان کافی مقبول ہیں
پچیس برسوں سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد افغان مہاجرین یہاں کے سماج میں پوری طرح رچ بس جانا ہی اپنا مقدر سمجھتے ہیں۔

1979 میں سابق سویت یونین کے افغانستان پر قبضے کے بعد تقریبا تیس لاکھ افغان پناہ گزین وہاں سے جان بچا کر پاکستان کے سرحدی علاقوں میں قیام پذیر ہو گئے تھے۔

گزشتہ پچیس برسوں میں افغانستان کے حالات میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں ہونے کی وجہ سے کئی پناہ گزین چاہ کر بھی اپنے وطن واپس نہیں جانا چاہتے۔

پاکستان میں آباد ان پناہ گزینوں میں سے کچھ تو اقتصادی طور پر کافی بہتر ہو گئے لیکن عام طور پر زیادہ تر لوگوں کی مالی حالت کمزور ہے۔ کچھ پناہ گزینوں نے ریسٹورینٹ کا کاروبار شروع کر دیا ہے تو کچھ لوگ ایسے ہیں جو ان رسٹورینٹوں میں کام کرتے ہیں۔ انکے افغانی نان مقامی لوگوں میں کافی مقبول ہے۔

عبدالقیوم 1985 میں پاکستان چلے آئے تھے۔ وہ کہتے ہیں:’میں اپنے ملک افعانستان میں بہت خوش تھا۔ میری وہاں قالین کی دکان تھی لیکن روسی قبضے کے بعد وہاں سے بھاگنا پڑا۔‘

عبدالقیوم پاکستان میں درزی ہیں۔ ان کا بیٹا بھی ان کا ہاتھ بٹاتا ہے-

عبدلقیوم کے بچے یہیں کے سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

وہ اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوۓ بتاتے ہیں: ’یہاں مہنگائی بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے گذارا کرنا بہت مشکل ہے۔ میں چاہ کر بھی افغانستان واپس نہیں جا سکتا کیونکہ وہاں کے حالات بہت خراب ہیں‘۔

مستقبل کے بارے میں عبدا لقیوم غیر یقنی کا شکار ہیں۔ کہتے ہیں: ’افغانستان میں میرے کئی رشتہ دار ہیں اگر وہاں جانے کا موقع ملا تو ضرور جاؤ نگا۔‘

پائندہ محمد کو پاکستان میں رہتے ہوئے بیس برس ہو چکے ہیں ۔ اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوۓ وہ کہتے ہیں :’اگرچہ پاکستان کی حکومت ہمارے پاسپورٹ کی تجدید کرنے کی کوئی فیس نہیں لیتی لیکن ہمیں جو ویزہ ملتا ہے اسکی معیاد چھ ماہ کی ہوتی ہے اور اس کی انٹری کی معیاد ایک ماہ بعد ختم ہو جاتی ہے۔ پھر ہمیں افغانستان جا کر ری انٹری لینی پڑتی ہے ۔ اگر حکومت ہمارا یہ مسئلہ حل کر دے تو ہم کئی پریشانیوں سے بچ جائے نگے‘۔

 ’یہاں مہنگائی بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے گذارا کرنا بہت مشکل ہے ۔ میں چاہ کر بھی افغانستان واپس نہیں جا سکتا کیونکہ وہاں کے حالات بہت خراب ہیں‘۔

وہ کہتے ہیں کہ افغانستان جانے کی انکی بڑی تمنا ہے لیکن موجودہ حالات انہیں اسکی اجازت نہیں دیتے۔ پائندہ محمد حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کے شکر گزار ہیں جنھوں نے انہیں اپنے ملک میں رہنے کی اجازت دی۔

کچھ افغان زیورات بیچتے ہیں جسے پاکستانی خواتین بہت شوق سے پہنتی ہیں۔ اس کے علاوہ افغانیوں نے اسلام آباد کے مختلف سیکٹروں میں افغا ن ہوٹل بھی کھول رکھے ہیں جو پاکستانی کھانوں کے ساتھ ساتھ افغانی کھانے بھی پیش کرتے ہیں ۔ افغانی نان بہت مقبول ہے۔

مارچ 2005 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں تیس لاکھ افغا نی موجود تھے ان میں سے چار لاکھ مہاجرین واپس جا چکے ہیں۔اعدادشمار کے مطابق پاکستان میں 53.3 فیصد افغان باشندے دہاڑی دار کے تور پر کام کرتے ہیں ـ دس فیصد اپنےذرائع آمدن کے لیئے دوسروں پر منحصر ہیں۔

پچھلے تین چار برسوں میں پاکستان سے کافی تعداد میں افغان مہاجرین اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔ افعان مہجاجرین کی اپنے ملک میں دوبارہ آبادکاری دراصل پاکستان، افغانستان اور اقوام متحدہ کےادارے یونائٹیڈ نیشنز ہیومین رائٹس کمشین فار ریفوجیز( یو این ایچ آر سی) کےدرمیان ایک معاہدے کے تحت عمل میں آئی جس کے مطابق یو این ایچ آر سی افغان مہاجرین کی ملک واپسی کے لیئے اقدامات کرے گی۔

حالانکہ مہاجرین کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جنھوں نے پاکستان آنے کے بعد اپنے اقتصادی حالات کو کافی مضبوط بنا لیا ہے اور ایسے لوگ افغانستان واپس نہیں جانا چاہتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد