BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 February, 2004, 13:17 GMT 18:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یورپی مزدوروں کے لئے نئے قانون
لندن میں جنوبی ایشیائی تارکین وطن
لندن میں جنوبی ایشیائی تارکین وطن
برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے یورپی یونین میں شامل ہونے والے نئے ممالک کے شہریوں کو برطانیہ میں کام کرنے کے لئے ’ورک پرمٹ‘ یعنی اجازت نامہ کے حصول کی بجائے صرف ورک رجسٹر پر اپنا اندراج کرانا ہوگا۔

مشرقی یورپ کے دس ممالک یکم مئی سے یورپی یونین میں شامل ہو رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ ان ممالک کی کمزور معیشتوں کی وجہ سے وہاں سے کام کی تلاش میں ہزاروں افراد برطانیہ کا رُخ کریں گے۔

برطانوی وزیر داخلہ ڈیوڈ بلنکٹ کا کہنا ہے کہ اجازت نامہ کی شرط قائم رکھنے سے خدشہ تھا کہ بہت سے لوگ غیر قانونی طور کام شروع کر دیں گے جس سے نہ تو ان لوگوں نے ٹیکس ادا کرنا تھا اور نہ ہی نیشنل انشورنس۔

ڈیوڈ بلنکٹ نے کہا کہ

مراعات
 نئے قوانین کے تحت مشرقی یورپ سے آنے والوں کو کم از کم تنخواہ اور بغص صورتوں میں رہائشی سہولیات اور ٹیکس مراعات کا حق حاصل ہوگا۔
ڈیوڈ بلنکٹ
نئے قوانین کے تحت مشرقی یورپ سے آنے والوں کو کم از کم تنخواہ اور بغص صورتوں میں رہائشی سہولیات اور ٹیکس مراعات کا حق حاصل ہوگا۔ اور اگر ایک سال کام کرنے کے بعد ان لوگوں کی نوکری چھن جاتی ہے تو انہیں بےروزگاری الاؤنس بھی ملے گا۔ ان قوانین کا اطلاق دو ممالک مالٹا اور سائپرس پر نہیں ہوگا۔

نئے قوانین کے تحت کام نہ کرنے والے افراد کو دو سال تک ریاست سے سہولیات نہیں ملیں گی۔

برطانیہ میں حزب اختلاف نے اس منصوبے پر تنقید کی ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے محنت کش افرادی قوت ملے گی جس کی اشد ضرورت ہے اور ملک کے فلاحی نظام پر بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔

برطانیہ اور آئرش رپبلک یورپی یونین میں شامل ایسے دو ممالک ہیں جو یونین میں شامل ہونے والے نئے ممالک کے شہریوں کو کام کرنے کی اجازت دینے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

ٹریسس یونین کانگریس کے جنرل سیکرٹری برینڈن باربر نے کہا کہ غیر ملکی مزدوروں کے بغیر برطانوی معیشت بیٹھ جائے گی۔

یورپی یونین کے نئے ارکان
پولینڈ
سلوواکیا
چیک رپبلک
سلووینیا
لیتھووینیا
لیٹویا
ہنگری
ایسٹونیا
مالٹا
سائپرس

دریں اثنا اقوام متحدہ کی پناگزینوں کی ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے امیر ترین چھتیس ممالک میں پنا لینے کے لئے درخواستوں میں بیس فیصد کمی آئی ہے۔

سن دو ہزار تین میں پناہ کے لئے سب سے زیادہ درخواستیں برطانیہ میں دائر کی گئیں جن کی تعداد اکسٹھ ہزار پچاس تھی۔ یہ تعداد ایک سال پہلے کے مقابلے میں اکتالیس فیصد کم ہے۔ امریکہ میں ساٹھ ہزار سات سو درخواستیں دائر کی گئیں۔

پناہ مانگنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد چیچنیا کے لوگوں کی ہے۔ سن دو ہزار میں پناہ کی سب سے زیادہ درخواستیں عراقیوں نے دائر کی تھیں لیکن اب ان کی تعداد میں پچاس فیصد کمی آ چکی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پناہ کی درخواستوں میں کمی کی وجہ سابہ یوگسلاویہ اور افغانستان کے حالات میں بہتری ہے۔ تاہم رپورٹ میں تنبیہ کی کہ ان ملکوں میں صورتحال مستحکم نہیں ہے اور انہیں بدستور بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد