تارکین وطن کیلیے افریقہ کیمپ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی یورپ کے پانچ بڑے ممالک کے وزراء داخلہ غیر ملکی تارکین وطن، دہشت گردی اور منظم جرائم کی روک تھام کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔ اٹلی کے شہر فلورنس میں ہونے والے مذاکرات کے ایجنڈے میں سرِ فہرست اٹلی اور جرمنی کی تجاویز ہیں جن کے تحت یورپ آنے کے خواہش مند تارکین وطن کے لیے شمالی افریقہ میں کیمپوں کا قیام شامل ہے۔ ان کیمپوں میں تارکین وطن کی درخواستوں پر غور ہوگا۔ غیر قانونی تارکین وطن کی آمد یورپ کے ایجنڈے پر سب سے حساس موضوع ہے۔ یورپی ممالک کو غیر قانونی طور پر آنے والے تارکین وطن سے نمٹنے کے لیے ایسے طریقہ وضع کرنے میں مشکل پیش آ رہی جو موثر بھی ہوں اور انسانیت کے تقاضوں پر بھی پورا اتریں۔ انہیں صحیح طریقے سے آنے والوں سے کوئی پریشانی نہیں لیکن وہ یورپ میں میں غیر قانونی طریقے سے داخلے کا راستہ بند کرنا چاہتے ہیں۔ نئی تجاویز کے تحت ایسے مراکز قائم کیے جانے چاہیں جہاں پر دوسرے ممالک سے آنے والوں کو ان کی درخواستوں پر غور کے دوران رہن سہن کی بنیادی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ جرمنی اور اٹلی یورپ سے باہر ایسے مراکز کے قیام پر زور دے رہے ہیں۔ برطانیہ نے بھی حال ہی میں ایسی تجاویز دی تھیں سپین کی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ کسی ایسی تجویز کی حمایت نہیں کریں گے جو انسانی حقوق کے بنیادی تقاضوں کے مطابق نہیں ہوگی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا افریقہ کے غریب ممالک بڑی تعداد میں غیر ملکی افراد کے لیے سہولتیں فراہم کر سکیں گے۔ فلورنس میں بات چیت کے دوران تارکین وطن کی بہتری کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے مظاہرے کیے |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||