تارکین وطن تک رسائی کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے اٹلی میں غیر قانونی تارکین وطن تک رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اٹلی نے اس اختتام ہفتہ بڑے پیمانے پر ان لوگوں کو ملک سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کے ساتھ اصل پناہ گزینوں کو ملک سے نہ نکالا جائے اٹلی نے اپنی پالیسی میں ڈرامائی تبدیلی کے بعد جمعہ سے اب تک تارکین وطن سے بھرے گیارہ طیارے لیبیا روانہ کئے ہیں۔ خیال ہے کہ 600 لوگوں کو اٹلی سے نکالا جا چکا ہے اور اٹلی کی اس سخت پالیسی پر انسانی حقوق کی تنظیموں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ غیر قانونی تارکین وطن کی حالتِ زار کا اندازہ اس خبر سے لگایا جا سکتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اتوار کے دن تیونیس کے نزدیک ایک جہاز کے غرق ہونے سے 22 افراد ہلاک ہو گئے ۔ ایسے تارکین وطن کو اکثر انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے پرانے جہازوں میں سوار کرادیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین کے یورپ کے ڈائریکٹر ریمنڈ ہال کا کہنا ہے کہ تمام پناہ گزینوں کو انصاف کے تقاضوں پر مبنی طریقہء کار تک رسائی حاصل ہونی چاہئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایجنسی کو ان سے ملنے دیا جائے اور اطالوی حکام کو یقین دلایا کہ جن لوگوں کو مدد کی ضرورت ہو گی انہیں مدد فراہم کی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||