اٹلی میں چھاپے، گرفتاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹلی کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے کئی افراد کو مشتبہ دہشت گرد ہونے کے شبہے میں گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان چھاپوں میں وسطی پرگیا سے تین اطالوی اور دو تُرک نژاد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ اسی تفتیشی کارروائی کے سلسلے میں یورپ بھر سے نو مشتبہ افراد پکڑے گئے ہیں جن میں سات تُرک اور دیگر دو بیلجیئم اور ہالینڈ کے ہیں۔ اٹلی کی پولیس کا کہنا ہے اُس نے وہ تُرک سیل کو توڑ ڈالا ہے جو تُرکی میں دہشت گرد حملوں کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔
اٹلی کے خفیہ اداروں کے مطابق انہیں مسلم شدت پسند جماعتوں کی جانب سے چھوٹے اور بڑے پیمانے پر منظم دہشت گرد حملوں کا خدشہ ہے۔ گزشتہ ماہ سپین میں ہونے والے ٹرین کے بم دھماکوں کے بعد سےاٹلی میں دہشت گرد حملوں سے ہوشیار رہنے کے رجحانات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اطالوی سیکیورٹی ادارے چوکس ہوگئے ہیں۔ اٹلی کی پولیس نے بیشتر گرفتاریاں ملک کے شمالی حصوں سے کی ہیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق کیونکہ ان علاقوں میں مسلمانوں گروپوں کی اکثریت ہےلہذا ہو سکتا ہے کہ ان کے القاعدہ سے روابط ہوں۔ اسی سلسلے میں اٹلی کی پولیس نے فروری میں ملک کے شمالی حصے ہی سے تین شمالی افریقی باشندوں کو گرفتار کیا تھا جن پر شبہہ تھا کہ وہ ملان کی ٹرینوں اور گرجا گھر میں بم نصب کرنا چاہتے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||