’مسلمان دہشتگردی کا مقابلہ کریں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی مسلم کونسل نے یہاں مقیم مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون کریں۔ کونسل نے ایک غیر متوقع اقدام اٹھاتے ہوئے برطانیہ کی ہر مسجد میں ایک تحریری پیغام بھیجا ہے جس میں مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے کئے جانے والے اقدامات میں تعاون کریں۔ اس پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ کی حفاظت کے لئے بے انتہا چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم ٹونی بلیئر اور برطانوی پولیس نے مسلم کونسل کے اس اقدام کو سراہا ہے۔ کونسل کے ترجمان عنایت بنگلہ والا کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا فیصلہ میڈرڈ بم حملوں کے بعد ہی کرلیا گیا تھا تاہم اس پر عملدرآمد منگل کی حراستوں کے بعد کیا گیا ہے۔ منگل کو جنوبی برطانیہ سے کئی پولیس چھاپوں کے دوران آٹھ مسلمان مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ چوبیس مقامات پر مارے گئے ان چھاپوں میں سات سو پولیس افسر شامل تھے۔
حراست میں لئے گئے افراد کی عمریں سترہ سے بتیس برس کے درمیان ہیں اور خیال ہے کہ یہ سبھی پاکستانی نژاد مسلمان ہیں۔ اس کارروائی کے دوران مغربی لندن کے ایک گودام سے نصف ٹن سے زائد امونیئم نائٹریٹ بھی برآمد کی گئی تھی۔ بی بی سی کے سیکیورٹی سے متعلق نامہ نگار فرینک گارڈنر کے مطابق برآمد کی جانے والی امونیئم نائٹریٹ کی یہ مقدار خاصی بڑی ہے اور بقول نامہ نگار یہ وہی مواد ہے جو بالی بم دھماکوں میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ امونیئم نائٹریٹ 1995 کی اوکلاہوما بمباری اور 1998 کے نیروبی میں امریکی سفارت خانے پر القاعدہ کے حملوں کے دوران بھی استعمال ہوا تھا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیرررسٹ برانچ کے سربراہ کے مطابق یہ کارروائی سن دو ہزار میں دہشت گردی پر قابو پانے کےلئے وضع کئے گئے قانون کے تحت کی گئی ہے۔ یہ چھاپے اکسبرج، الفورڈ، کولنڈیل، مغربی سسیکس، سلاؤ اور ریڈنگ میں مارے گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||