’ہونی کو کوئی نہیں ٹال سکتا‘! | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین کے شہر میڈرڈ کی ٹرینوں میں حالیہ بم دھماکوں کے بعد جہاں یورپی ممالک میں سکیورٹی کے انتظامات سخت تر کرنے اور صورتحال کا جائزہ لینے کی مہم شروع ہو چکی ہے وہیں برطانوی حکومت لندن میں زیر زمین سفری نظام کے متعلق مزید چوکنا ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں اب لندن بھر کے ٹرین سٹیشنوں میں جگہ جگہ اشتہارات لگاۓ گۓ ہیں، وقفے وقفے سے مسافروں کو ہشیار رہنے کے لئے کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہ کسی قسم کے ایسے سامان کے قریب نہ جائیں جو کسی کی تحویل میں نہ ہو اورانہیں کوئی مشکوک چیز نظر آئے تو فوری طور پر سکیورٹی کے عملے کو مطلع کریں۔ اس قدر سخت سکیورٹی سے لوگوں کو خائف ہونا چاہیے لیکن جب آج میں نے یہی جاننے کے لۓ بش ہاؤس سے نکل کر وسطی لندن کے چند مصروف ٹیوب سٹیشنوں پر عام لوگوں سے بات چیت کی تو ایسا لگا کہ لوگ صورتحال سے آگاہ تو ہیں لیکن اس قدر خوفزدہ نہیں ہیں جیسا کہ خیال کیا جا رہا تھا۔
بش ہاؤس سے نکل کر سیدھے میں چلتے جائیں تو آپ کے دائیں ہاتھ ہر آتا ہے ہولبرن سٹیشن۔ جب میں نے وہاں کھڑی ایک ہندوستانی خاتون سے پوچھا کہ وہ اس اقدام پر کیا کہتی ہیں تو شمالی لندن کے علاقے اینجل سے آنے والی میگھنا نے کہا کہ’ حکومت کا یہ فیصلہ اچھا تو ہے لیکن اس سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ انڈر گراؤنڈ کے استعمال کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں ہے‘۔ ’بہر حال اب اتنا ضرور ہے کہ میں سفر کرتے ہوۓ زیادہ ہشیار رہتی ہوں اور انڈر گراؤنڈ میں ہوں تو اپنے گرد ماحول سے با خبر رہنے کی کوشش کرتی ہوں‘۔ وہیں کھڑی ایک سکھ فیملی نے کہا کہ ’ڈرنا کیسا جی ٹیوب پر سفر کۓ بغیر توگزارا نہیں اور جو ہونا ہے وہ تو کہیں بھی ہو سکتا ہے‘۔ سٹیشن میں لوگوں کا آنا جانا معمول کے مطابق ہی تھا سواۓ اس کے کہ اکثر و بیشتر پولیس اہلکار سٹیشن میں آتے اور باہر جاتے نظر آۓ ۔ میں نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی مگر بے سود بلکہ تھوڑی دیر میں مجھ سے کہا گیا ک سٹیشن کے اندر کسی قسم کی ریکارڈنگ کی اجازت نہیں ہے۔ خیریت اسی میں تھی کہ باہر نکل آیا جاۓ اور میں نے ایسا ہی کیا۔ قریب ہی کھڑے ایک عمر رسیدہ اخبار فروش سے میں نے پوچھا کہ کیا وہ ٹیوب سٹیشن میں رونما ہونے والی کسی قسم کی ہنگامی صورتحال سے خائف ہیں تو وہ کہنے لگے ’ اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے اگر کچھ ہوا تو میں سٹال چھوڑ کر بھاگ نکلوں گا‘ ۔ مجھے اس کے نظریۓ پر تعجب اس لۓ نہیں ہوا کہ اگر میں خود ہوں یا کوئی اور تو وہ بھی شاید ایسا ہی کرے۔ کوونٹ گارڈن اور لیسٹر سکوائر کے ٹیوب سٹیشن قدرے سنسان سے لگے۔ گو یہ دونوں خالص سیاحوں کی دلچسپی کے مقامات ہیں ۔ ایک امریکی سیاح خاندان سے جب پوچھا کہ ان حالات میں لندن گھومنا انہیں خوفزدہ نہیں کرتا تو نیویارک سے آئی خاتون کہنے لگیں کہ ’ ہم گھومنے کے موڈ سے آۓ ہیں اور اگر کچھ ہوتا بھی ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے ۔اتنا ضرور ہے کہ یہ صورتحال اسرائیل کیا امریکہ میں ہونے والے دہشت گرد واقعات سے کہیں پر امن ہے‘۔
ایسے ہی خیالات کا اظہار لیسٹر سکوائر کے ہپو ڈرو کے باہر ٹکٹ کی قطار میں لگی ٹیکساس سے آئی ایک نوجوان خاتون سیاح نے کیا: ’ آخر میں اتنے ڈالر خرچ کر کے آئی ہوں اور لندن گھومنا چاہتی ہوں میں اس رنگ میں خوف کے باعث بھنگ نہیں کر سکتی۔ اگر کچھ ہونا ہے تو وہ چاہے لندن وکٹوریہ ہو یا میڈرڈ کی ٹرینیں کہیں بھی کچھ ہو سکتا ہے‘۔ مسافروں نے تو اپنے تاثرات بیان کۓ ہی لیکن لندن کی پولیس ہو یا انڈر گراؤنڈ کا عملہ دونوں ہی بحیثیت عام شہری اپنے تاثرات کا اظہار کرنے سے انکار کرتے رہے۔ واپس لوٹتے ہوۓ مجھے یہی احساس ہوا کہ برطانوی حکومت کتنی ہی خائف ہو لیکن لندن والے اور لندن آنے والے دونوں ہی خطرہ مول لینے پر آمادہ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||