عربی بولنے والوں کی بھرتی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو میں بڑے پیمانے پر توسیع کی جارہی ہے۔ برطانیہ کے وزیر داخلہ اگلے ہفتے برطانوی پارلیمان میں ایم آئی فائیو میں ایک ہزار نئے کارکن بھرتی کرنے کے منصوبوں کو پیش کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے اہکاروں کی اتنے بڑے پیمانے پر بھرتی میں کئی سال لگیں گے۔ اپوزیش کی جماعتوں نے اس توسیع منصوبے کی حمایت کی ہے اور کچھ کا خیال ہے کہ یہ توسیع کئی سالوں سے درکار تھی۔ ماضی میں برطانیہ خفیہ ادارے کی توجہ سرد جنگ اور آئی آر اے کی کارروائیوں پر مرکوز تھی لیکن القاعدہ کی طرف سے خطرات کے پیش نظر اب عربی بولنے والے افراد کو بھرتی کیا جائے گا۔ اس نئی بھرتی سے ایم آئی میں اہلکاروں کی تعداد دوسری جنگ عظیم کے دوران اس میں شامل اہلکاروں کی تعداد کی سطح پر آ جائے گی۔ ایجنسی کا خیال ہے کہ ایسے ہزاروں نوجوانوں کا جن کا دہشت گردوں کے مختلف گرہووں سے تعلق ہے برطانیہ آنا جانا ہے۔ برطانیہ کے خفیہ ادارے پر یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ یہ اسلامی انتہا پسند گروہوں میں رابطے پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ وزیر داخلہ ڈیوڈ بلنکٹ اگلے ہفتے اس منصوبہ کے ساتھ ایک متنازعہ قانون کا مسودہ بھی برطانوی پارلیمان کے سامنے پیش کرنے والے ہیں جس کے تحت مشبتہ دہشت گردوں کو بغیر قانونی چارہ جوئی کے قید میں رکھا جاسکے گا۔ ایم آئی فائیو میں اس وقت انیس ہزار ملازمیں ہیں۔ نئی بھرتیوں کے لیے ایجنسی کی ویب سائٹ پر اشتہار دے دیا گیاہے۔ نئے بھرتی کئے جانے والے عملے کو ساٹھ دن کاج ایک تربیتی کورس بھی کرایا جائے گا جس میں ان کی صلاحیت کا اندازہ لگایا جائے گا اور ان کی بھرتی کرنے کا فیصلہ کیاجائے گا۔ ایم آئی فائیو انیس سو نو میں قائم کی گئی تھی اور اس میں اس وقت صرف چار فیصد عملہ ایشائی یا سیاہ فاموں پر مشتمل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||