| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اغوا شدہ طیارے مارگرانے کا منصوبہ
جرمن کابینہ نے ایک ایسے منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت ہائی جیک ہونے والےطیاروں کو مار گرایا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد طیاروں کے ذریعے دہشتگردانہ حملوں کے امکان کو ختم کرنا ہے۔ جرمنی کے حکمراں اتحاد نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ طاقت کااستعمال صرف اس صورت میں کیا جاسکتا ہے جب جہاز کو اغوا ہونے سے بچانے کی دیگر تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہوں۔ جرمنی کی وفاقی حکومت یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا اس مجوزہ منصوبے پر عملدرآمد کیا جائے یا نہیں۔ جس کے لئے پارلیمان کی منظوری بھی ضروری ہے۔ نئے قانون کے نفاذ کا یہ اقدام امریکہ میں گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک کے حملوں کے پس منظر میں لیا گیا ہے۔ جنوری میں جرمنی میں بھی ایسے ہی حملے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا جب ایک زیرِ تربیت نوجوان نے ایک چھوٹا جہاز چرالیا اور دو گھنٹے تک فرینکفرٹ پر پرواز کرتا رہا۔ اس نے دھمکی دی تھی کہ وہ جہاز کو یورپ کے مرکزی بنک سے ٹکرا دےگا۔ جرمنی کے وزیرِ دفاع نے بتایا کہ پہلے اغوا ہونے والے طیارے کو زبردستی اتارنے کی کوشش کی جائے گی۔ ناکامی کی صورت میں ہوائی فائر کرکے اغوائیوں کو خبردار کیا جائے گا اور اگر پھر بھی کوئی مثبت ردِ عمل سامنے نہ آیا تو آخری چارۂ کار کے طور پر اسے تباہ کردیا جائےگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو اغوا شدہ جہاز مار گرانے پر کسی قسم کی قانونی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑےگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||