یورپ کے لئے سکیورٹی چیف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی اتحاد کے وزراء نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے رکن ممالک کے درمیان رابطے کی غرض سے ایک اعلیٰ اہلکار متعین کیا جائے۔ وزراء نے اتحاد کی خارجہ پالیسی اور سکیورٹی کے سربراہ ہاویر سولانا سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ رکن ممالک کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے کے لئے تجاویز دیں۔ یورپی اتحاد کے وزراء کے اجلاس میں جس بات پر اتفاق نہیں ہو سکا وہ یہ ہے کہ اتحاد خفیہ معلومات جمع کرنے کے لئے ایک وسیع ادارہ تشکیل دے۔ یہ اجلاس برسلز میں ہوا جس کا اہم مقصد گزشتہ دنوں سپین کے شہر میڈرڈ میں ہونے والے بم دھماکوں پر یورپی ممالک کا ردِ عمل مرتب کرنا تھا۔ ان دھماکوں میں دوسو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے واحد اعلیٰ اہلکار کی تقرری، جو رکن ممالک کے درمیان دہشت گردی کی روک تھام کے چیف کے طور پر کام کرے گا، اتحاد کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاویر سولانا کے ما تحت ہوگا۔ اس چیف کا کام رکن ممالک میں سکیورٹی کے لئے کیے جانے والے اقدامات کو یکجا کرنا ہوگا۔ آئرلینڈ کے وزیرِ داخلہ مائیکل میکڈوویل نے، جن کی سربراہی میں یہ مذاکرات ہو رہے ہیں، یہ اعتراف کیا کہ رکن ممالک کے لئے یہ کام مشکل ہوگا کہ وہ اپنے تمام راز دوسروں پر آشکار کر دیں۔ بات چیت کے بعد انہوں نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ’مذاکرات کے دوران ہماری کوشش رہی کہ اس مسئلے پر حقیقت پسندانہ انداز میں غور کیا جائے۔‘ اگلے ہفتے سکیورٹی کے معاملات سے متعلق تجاویز یورپی اتحاد کی سربراہ کانفرنس میں پیش کی جائیں گی۔ گیارہ ستمبر دو ہزار میں امریکہ پر ہونے والے خود کش حملوں کے بعد بھی یورپی اتحاد کے وزرائے داخلہ کے درمیان اسی نوعیت کے اجلاس ہوئے تھے جن میں کئی اقدامات پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تاہم برسلز میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہونے والے ان اجلاسوں میں عملی طور پر زیادہ کام نہیں ہو سکا اور سپین میں دہشت گردی کے بعد ایک مرتبہ پھر یورپی اتحاد اس مسئلے سے نمٹنے کی حکمتِ عملی مرتب کرنا چاہتا ہے۔ گزشتہ روز کے اجلاس کے بعد یورپی کمشنر اینٹونیو ویٹورینو نے کہا کہ جہاں تک قانون سازی کا تعلق ہے ان معاملات سے نمٹنے کے لئے کوئی جادوئی حل درکار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی باتیں پہلے ہی طے ہو چکی ہیں بس ان پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ برطانوی وزیرِ داخلہ ڈیوڈ بلنکٹ کا کہنا تھا کہ یورپی سی آئی اے کی طرز پر نئے اداروں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ’ہمیں ان باتوں پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے جو ہم پہلے ہی طے کر چکے ہیں۔‘ یورپی اتحاد کے ممالک اور وہاں کی وزارتِ داخلہ اور انصاف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے درمیان رابطے کا فقدان رہتا ہے۔ خفیہ معلومات کے تبادلے کے حوالے سے بھی ان ممالک میں زیادہ رابطہ نہیں ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ گزشتہ دنوں سپین میں دہشت گردی کے بعد جب جرمنی نے یہ جاننا چاہا کہ دھماکوں میں کون سے مواد استعمال ہوا ہے تو سپین نے یہ معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا جس پر جرمنی نے اپنے غصے کا اظہار بھی کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||