پیدائش سوِٹزرلینڈ، شہریت کوئی نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوٹزرلینڈ میں ووٹروں نے سوِس شہریت دینے کے بارے میں قوانین کو نرم کرنے کی تجاویز مسترد کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں ہونے والے ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج اور تجزیوں کے مطابق ملک کی شہریت حاصل کرنے کے بارے میں سخت قوانین کو نرم کرنے کی تجاویز مسترد کر دی گئی ہیں۔ سوٹزرلینڈ میں پیدائش سوِس شہریت کی ضمانت نہیں ہے۔ ریفرینڈم میں منفی ووٹ کے بعد اس صورتحال میں تبدیلی نہیں ہوگی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں قوانین کو آسان بنانا چاہتی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جمہوری عمل میں شامل ہو سکیں۔ لیکن دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی جماعتوں نے قوانین میں نرمی کے بارے میں تجاویز کے خلاف زبردست مہم چلائی کہ اس سے سوٹزر لینڈ کے شہریوں کی شناخت ختم ہو جائے گی۔ ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج کے مطابق سوِس ووٹروں نے مختلف ممالک سے آئے تارکین وطن کے سوٹزرلینڈ میں پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت دینے کے منصوبے کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کو شہریت دینے کی تجویز بھی مسترد کر دی گئی ہے جو سوٹزرلینڈ میں بڑے ہوئے اور انہوں نے وہیں تعلیم حاصل کی۔ سوٹزرلینڈ میں تارکین وطن کے انضمام کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ ’یہ سوٹزرلینڈ کے لیے ایک افسوس ناک دِن ہے‘۔ ووٹنگ کے رجحانات کے مطابق فرانسیسی زبان بولنے والے ملک کے مغربی حصوں میں ان تجاویز کے حق میں ووٹ ڈالے گئے لیکن جرمن زبان والے مشرقی حصوں میں انہیں قبول نہیں کیا گیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ سوٹزرلینڈ میں شہریت کی درخواست مقامی آبادی یا گاؤ ں کی سطح پر دی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ براہ راست جمہوریت کے نظریے کے تحت سوٹزرلینڈ میں ہر سیاسی فیصلے پر لوگ حتمی فیصلہ دیتے ہیں۔ سوٹزرلینڈ کی کل آبادی ستر لاکھ ہے اور وہاں پندرہ لاکھ تارکین وطن آباد ہیں۔ ان تارکین وطن میں سے زیادہ تر سوٹزرلینڈ میں ہی پیدا ہوئے تھے لیکن وہ ووٹ نہیں ڈال سکتے ہیں اور پولیس سمیت کچھ نوکریوں کے لیے بھی اہل نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||