BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 February, 2007, 22:46 GMT 03:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افغانستان آپ کاگھرہے،خوش آمدید‘

پناہ گزینوں کے لیے پیغام
افغانستان سب کا گھر ہے، وہ طالب ہو یا مولوی اس لیے سب کی ذمہ داری ہے کہ اس کی تعمیر نو میں حصہ لیں۔
پاکستان نےاقوام متحدہ کے تعاون سے افغان پناہ گزینوں کو واپس افغانستان بھجوانےکے لیے نئے اقدامات کیے ہیں اور کوئٹہ سمیت بلوچستان کے ان علاقوں میں نئے سائن بورڈ نصب کیے ہیں جہاں افغان مہاجرین کی بڑی تعداد آباد ہے۔

یہ سائن کوئٹہ سے چمن، ژوب اور دالبندین جانے والے قومی شاہراہوں پر بھی نظر آنے لگے ہیں اور اس کا مقصد اِن پناہ گزینوں کو بتانا ہےکہ افغانستان میں اب مکمل امن ہے اور وہاں لوگ خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔

کوئٹہ کی افغان قونصلیٹ میں پناہ گزینوں کے انچارج امداد اللہ خان نے بتایا کہ بلوچستان میں لگائے گئے ان سائن بورڈوں کے تمام اخراجات افغانستان میں پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے ایک غیرملکی ادارے (آراکوزیا) نے برداشت کیے ہیں۔

پناہ گزینوں کے لیے پیغامات
سائن بورڈوں پر کچھ اس طرح کے نعرے درج ہیں(پشتانہ ٹول یودی، افغانستان ستاسو کوردی اوشہ راغلاستہ) یعنی پشتون سب ایک ہے، افغانستان آپ کاگھرہے اورخوش آمدید وغیرہ۔ اس کےعلاوہ ان پر طالبان کے لیے پیغامات درج ہیں اور کہا گیا ہے کہ افغانستان سب کا گھر ہے چاہے وہ طالب ہو یا مولوی اس لیے سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ افغانستان کی تعمیر نو میں حصہ لیں۔

حکومت پاکستان کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ افغان پناہ گزینوں کو جلد سے جلد افغانستان بھجوایا جا سکے کیونکہ 2005 کی مردم شمار کے مطابق اب بھی تیس لاکھ افغان پاکستان میں آباد ہیں جونہ صرف اقتصادی لحاظ سے پاکستان پربوجھـ ہیں بلکہ امن و امان کی صورتحال میں خرابی کا بھی بعض اوقات انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

واضع رہے کہ پاکستان کی حکومت نے جون 2005 سے صوبہ میں شمشتواورکچہ گڑی کے علاوہ بلوچستان کے گردی جنگل اورجنگل پیرعلی زئی کیمپ بند کیےتھے لیکن ان کیمپوں میں اب بھی ڈھائی لاکھ سے زیادہ پناہ گزین آباد ہیں۔

پاکستانی سیکورٹی فورسز نے بلوچستان میں ان کیمپوں میں آنے والے جانے والوں پرسخت نظر رکھی جاتی ہے۔ بند ہونے والے ان کیمپوں میں رہنے والے زیادہ تر پناہ گزین افغانستان میں امن و امان کی صورتحال بالخصوص جنوبی صوبوں میں طالبان اورامریکی اور نیٹوفورسز کے درمیان جاری لڑائی، بے روزگاری اوردیگر سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ملک جانے کے لیےتیارنہیں ہیں۔

یہاں بعض ماہرین کا کہناہے کہ جب تک افغانستان کے جنوبی صوبوں ہلمند ، قندھار، زابل اورغزنی میں امن قائم نہیں ہوگا اس وقت تک کسی کا اپنی مرضی سے جانامشکل ہے۔

اسی بارے میں
اندراج سست روی کا شکار
19 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد