کوئٹہ سے 28 افغان باشندے گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں پولیس نے کم سے کم اٹھائیس افغانیوں کو شہر کے مختلف علاقوں سےگرفتار کیا ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے قائدین نے ان گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری محمد یعقوب نے بتایا ہے کہ یہ افغان غیر قانونی طور یہاں مقیم تھے اور انھیں فارن ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں پشتون آباد سیٹلائیٹ ٹاؤن اور کچلاک کے علاقوں سے کی گئی ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ گرفتار افغانیوں کی تعداد چالیس کے لگ بھگ ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ چوہدری یعقوب نے بتایا ہے کہ اٹھائیس افغانیوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور یہ افغان پناہ گزین نہیں ہیں بلکہ یہ افغان حال ہی میں یہاں کوئٹہ آئے ہیں۔ انھوں نے کہا ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا ان گرفتار افغانیوں کا تعلق مشتبہ طالبان سے ہے یا نہیں تاہم اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ چند روز میں صوبے کے دیگر علاقے جیسے چمن اور نو شکی وغیرہ سے بھی بڑی تعداد میں افغانیوں کو فارن ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ جمعیت علماء اسلام کوئٹہ کے سیکرٹری اطلاعات عبدالستار چشتی نے کہا ہے کہ پولیس نے رات گئے مدارس پر چھاپے مارے ہیں اور بے گناہ افغان طالب علموں کو گرفتار کیا ہے۔ یاد رہے کہ اگست ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں تقریباً ننانوے افغانیوں کو مختلف نجی ہسپتالوں سے گرفتار کیا گیا تھا جو یہاں طبی امداد حاصل کر رہے تھے۔ | اسی بارے میں وزیرستان میں طالبان کا دفتر بند01 October, 2006 | پاکستان ہسپتال سے نو مشتبہ طالبان گرفتار01 October, 2006 | پاکستان باجوڑ: سرکاری اہلکار پر بم حملہ28 September, 2006 | پاکستان جنوبی وزیرستان میں مزید 7 لاشیں 25 September, 2006 | پاکستان وزیرستان میں طالبان کا ’انصاف‘24 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||